مذاہب: مشترکہ اقدار کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام اور مغرب کے درمیان مشترکہ اقدار کے فروغ پر گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ تین روزہ کانفرنس میں بیشتر مقررین کا کہنا تھا کہ اسلام اور مغرب کے درمیان اختلافات کی موجودگی میں بھی تعاون کی راہیں نکالی جاسکتی ہیں۔ تاہم بعض نے مشترکہ اقدار پر اصرار کے بجائے ایسے ضابطے وضح کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس میں رہتے ہوئے مذاہب اور تہذیبوں میں دلائل کی بنیاد پر مکالمہ ممکن بنایا جا سکے۔ جرمنی کی جامعہ ایرفرٹ میں مطالعہ اسلام کے پروفیسرڈاکٹر جمال ملک نے بتایا کہ اسلام اور مغرب کے درمیان مسئلہ ایک دوسرے کی حریفانہ شبیہ کا ہے۔ ان کے مطابق دونوں کے درمیان ڈرامائی مخاصمت تاریخی خطوط پراس وقت استوار کی گئیں جب یورپ مذہب میں عقلیت پسندی سے مغلوب ہو کر دنیا بھر میں اپنی تہذیب برآمد کرنے میں مصروف تھا۔ ہندکو بولنے والے ایک پاکستانی خاندان کے چشم و چراغ ڈاکٹر ملک کے مطابق اس عمل میں روشن خیالی اور لادینیت کے عناصر کار فرما تھے جو یورپ کو امریکہ، افریقہ اور ایشیا سے ممتاز کرتے تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ یورپی تاریخ سے جڑے خیالات مثلاً روشن خیالی اور شعوری سرمایہ داریت کسی بھی غیر یورپی یا غیر عیسائی کلچر کو یورپ کی لادینی وراثت میں کوئی کردار ادا کرنے کی گنجائش دینے کو تیار نہ تھے۔ عثمان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے چیئرمین اور فلسفہ کے استاد ڈاکٹر منظور احمد نے اسلام اور مغرب کے درمیان خلیج کو مشترکہ اقدار کے فروغ کے ذریعہ پاٹنے میں کامیابی کا امکان یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ بظاہر مشترک نظر آنے والی اقدار کی فہرست دو مختلف کلچرکے میدانِ عمل میں مختلف طور پر نظر آئیں گی۔ ان کے مطابق دلیل کی سطح پر اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ جب تک مابعدالطبعیات کواٹھا کر کھڑ کی سے باہر نہیں پھینک دیا جاتا خدا کو کائنات میں اقدارکی عالمگیریت کا ضامن مان لیا جائے کیونکہ جب تک ہم خدا اور اقدار کی بظاہر سمجھ میں نہ آنے والے خیالات سے نبرد آزما ہیں دونوں ایک مستقل عقلی نظام کا حصہ بنائے جاسکتے ہیں۔ ڈاکٹر منظور احمد نے کہا کہ مشترکہ اقدار کےمسئلہ کا حل روشن خیال مفکر عمانوئیل کانٹ کےمطابق اقدار کی فہرست بنانے کے بجائے اقدار کےتجربہ کو اصول و ضوابط کے تحت رکھ کر بات آگے بڑھائی جائےجو نہ صرف یہ کہ کسی خاص کلچر کے لیےنہیں ہوں گے بلکہ عقلی طور پر سب کو قابلِ قبول ہوں گے۔ جامعہ جامشورو میں شعبہ تاریخ کے سابق سربراہ ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق ثقافتی روایات اور اقدار سماج کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی برتاؤ، رویوں، آداب اور سیاسی اور معاشی تحریکوں کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں جبکہ تاریخ کے عمل میں سیاسی معاشی اور سماجی طاقتیں سماج کی ساخت بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جس کے نتیجہ میں نئی ثقافتی اقدار اور روایات جنم لیتی ہیں۔ جامعہ ڈھاکہ میں شعبہ مذاہبِ عالم کے سربراہ ڈاکٹر قاضی نورالاسلام کے نزدیک یہودیوں عیسائیوں اور مسلمانوں کو بحیثیت ارکان خاندانِ ابراہیمی نہ صرف یہ کہ اپنے مفادات کے لیے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے اور اس کے لیے مذاہبِ عالم کومشرق اور مغرب دونوں جگہ ثانوی سطح کی تعلیم میں متعارف کرایا جائے۔ ڈاکٹر انیس احمد نے بنیادپرستی کی اصطلاح کو بنیادی طور پر امریکہ کے پروٹیسٹنٹ عیسائیوں کی خودساختہ تعریف سے منسوب کیا جو انیسویں صدی کے درمیان میں اٹھنے والی تحریک کی بدولت سامنے آئی تھی۔ان کے بقول 1857میں پہلی مرتبہ مڈل ایسٹ جرنل نےبنیاد پرستی کی اصطلاح مسلمانوں کے لیے استعمال کی جبکہ سیموئیل ہنٹنگٹن نے 1996میں اپنے مضامین میں لکھا کہ مغرب کے لیے مسئلہ اسلامی بنیادپرستی نہیں بلکہ اسلام ہےیہی وجہ ہے کہ مغربی حکومتوں نے مسلم دنیا میں غاصب حکمرانوں کی پشت پناہی کرکے اپنے تئیں کسی نوعیت کی مسلم ریاست کے ظہور کو وقوغ پذیر ہونے سے روکے رکھا۔ ڈاکٹر انیس کے مطابق اسلام میں اندھے اعتقاد کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اسلام علم کے ایسے کلچر کا علمبردار ہے جو معارف مشاہدہ تحقیق تفکر تعقل تدبر تعلیم اور تفہیم سے عبارت ہےدوسری جانب اسلام کی روشن خیالی کی جڑیں قرآن اور سنت کو علم کا منبع تسلیم کرلینے میں پوشیدہ ہیں کیونکہ اسلام بنیادی طور پر غیر روایتی مذہب ہے جو اجتہاد کی دعوت دیتا ہے۔ تہران کی جامعہ شہید بہشتی کے شعبہ صحت اور سماج سے وابستہ ڈاکٹر حوریہ شمشیری نے عورتوں کی صحت کو ان کی حیاتیاتی ضروریات کی بناء پر مغرب اور مشرق کے درمیان ایک قدرِ مشترک قرار دیا انہوں نے قرآن سے متعدد بار استفادہ کرتے ہوئے بتایا کہ عورتوں کو اللہ نے بنی نوع انسان کے تسلسل کے حوالے سے جو ذمہ داری تفویض کی ہے اس کی روشنی میں ان کی صحت کا مسئلہ دنیا کی سرحدوں کا پابند نہیں۔ کابل میں گوئتے انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ابراہیم ہوتک نے کہا کہ عالمگیریت کے عمل نے ثقافتوں کوبھی اپنےرنگ میں رنگ لیا ہے اور ابلاغ کے جدید اوزاروں نے اطلاع کو حقیقی وقت میں نشر کرکے نئی قدروں کو جنم دیا ہے جو ثقافتوں میں نہ صرف یہ کہ جدیدیت کے رجحانات کو مہمیز دینے کا باعث بن رہا ہے بلکہ مختلف ثقافتوں کے درمیان مکالمہ کا بھی سبب بنے گا۔ ہیو من رائٹس کمیشن آف پاکستان کی نائب سربراہ زہرہ یوسف نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ انسانی حقوق کا فروغ دنیا کے کسی بھی خطہ میں کہیں بھی مقبول تحریک نہیں رہی اور اس حوالے سے جدوجہد سست اور تنہائی سے عبارت ہے مگر صرف مساوات اور حقوقِ انسانی کے پس منظر میں ہی دنیا کے شہریوں کے لیے اسلام اور مغرب میں مشترکہ اقدار کی تلاش ممکن ہوسکے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||