’انکار کرنا قرآن نے ہی سکھایا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیو یارک میں اپر مین ہیٹن کی 110th سٹریٹ پر تاریخ رقم کرنے والی ڈاکٹر امینہ ودُود ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی میں شعبہ فلسفہ اور مذاہب میں اسلامیات کی پروفیسر ہیں۔ ڈاکٹر امینہ شمالی امریکہ میں اسلامی سکالرز کے حلقوں میں کوئی انجانا نام نہیں۔ ان کی کتاب ’قرآن اور خواتین۔۔‘ ایک خاتون کے نکتہ نظر سے قرآن کی کی ایک اہم تشریح مانی جاتی ہے۔ ڈاکٹر امینہ ، جو افریقی نژاد ہیں، یہ یقین رکھتی ہیں کہ مذہب اور روحانیت میں خواتین کو بھی قیادت کا اختیار ہونا چاہئیے۔ ڈاکٹر امینہ اسلامی تاریخ اور عقائد کے تناظر میں رہتے ہوئے ایسی روایات کو تبدیل کرنے کا پرچار کرتی ہیں جو انُ کے خیال میں فرسودہ ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر امینہ حدود کی سزاؤں کی مخالفت کرتی ہیں اور ان کا کہناہے کہ ہاتھ کاٹنے کی سزا یا بیوی کو مارنے کی اجازت صحیح نہیں ہیں۔ انہوں نے حال میں کینیڈا کے شہر ٹورونٹو میں نور کلچرل سینٹر میں دئیے گئے ایک لیکچر میں کہا تھا کہ بحیثیت ایک مسلمان اللہ ان کے دل کے بہت قریب ہے اور وہ مکمل ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بارے میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتیں کہ وہ قرآن کی کچھ آیتوں کے بارے میں کیا سوچتی ہیں۔ امریکہ میں ڈاکٹر امینہ کے ناقدین کی بھی کمی نہیں ہے اور انہیں مسلسل بہت سخت تنقید کا سامنا رہتا ہے۔ کینیڈا میں دئیے گئے لیکچر میں ہی ان پر کئی اسلامی سکالرز نے سخت تنقید کی تھی اور کہا تھا انہیں قرآن اور عربی زبان کی سمجھ نہیں ہے اور یہ کہ وہ اسلام پر یقین نہیں رکھتیں۔ لیکن ڈاکٹر امینہ کا یہ اصرار ہے کہ اسلام ہی انہیں یہ سکھاتا ہے کہ ایسی روایات جو اسلام کی ابتدا میں ایک خاص تاریخی اور ثقافتی پس منظر میں اس کا حصہ بنائی گئی تھیں اب تبدیل کر دینی چاہئیں۔ انہوں نے کینیڈا کے اس لیکچر کے دوران کہا تھا کہ ’یہ قرآن ہی ہے جو مجھے یہ راستہ دکھاتا ہے کہ انکار کیسے کیا جائے۔‘ لیکن انہیں امریکہ میں اتنی سخت مخالفت کا سامنا ہے کہ جمعے کے نماز کی امات کرنے کے لئے منتظمین کو دھمکیوں کی وجہ سے نماز کا مقام تبدیل کرنا پڑا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||