’ہرمسلمان دہشتگرد نہیں، مگر ہر دہشتگرد مسلمان ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے ایک ممتاز صحافی نے اسلامی دنیا میں ان ملاؤں پر شدید تنقید کر کے ہلچل مچا دی ہے جو جہاد کے نام پر معصوم لوگوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ روسی کی ریاست اوسیٹیا کے علاقے بیسلان میں ہونے والے سانحے کے بعد ایک اداریے میں عبدالرحمن الرشید نے جو سیٹلائٹ چینل العربیا کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں یہ لکھا ’یہ کھلی بات ہے کہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہے لیکن یہ بھی سچ ہے اور بہت تکلیف دہ سچ ہے کہ سب کے سب دہشت گرد مسلمان ہیں۔‘ عبدالرحمن نے دنیا میں اسلام پسندوں کی طرف سے تشدد کا الزام ریڈیکل ملاؤں پر لگایا ہے اور کہا ہے کہ ملاؤں نے ایک ایسے مذہب کو ہائی جیک کر لیا ہے جو امن پسند بھی ہے اور جس میں قوت برداشت بھی ہے۔ ہفتے کو اخبار’الشرق الاوسط‘ میں شائع ہونے والے اس آرٹیکل میں رشید نے خاص طور پر مصر کے متنازعہ مولوی یوسف القرادوی کا حوالہ دیا ہے جن کے خیالات الجزیرہ ٹی وی چینل پر نشر کیئے جاتے ہیں۔ رشید لکھتے ہیں: ’یوسف جیسا عمر رسیدہ شخص نوجوانوں کو عام شہریوں کی ہلاکت پر اکساتا ہے جبکہ اس کی دو صاحبزادیاں ’ایک کافر ملک‘ برطانیہ کی طرف سے فراہم کردہ سکیورٹی انتظامات میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، غالباً رشید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یوسف القرادوی منافق ہیں۔ رشید کے نظریات نئے بھی نہیں اور نہ انوکھے ہی ہیں۔ کئی عرب مصنفوں نے عرب معاشروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکیں اور اپنی بدقسمتی کا الزام بیرونی طاقتوں کے سر تھوپنا بند کر دیں۔ لیکن رشید کے ان خیالات سےجو ایک نازک وقت پر سامنے آئے ہیں اور جو ایک نامی گرامی لکھاری کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں، اُن لوگوں کو یقیناً سیخ پا کر کے رکھ دیں گے جو یہ سمجھتے ہیں کہ جہاں جہاں دہشت گردی کی سرپرستی ریاستی سطح پر ہوتی ہے وہاں نشانہ مسلمان ہی بنتا ہے۔ خواہ یہ چیچنیا ہو، فلسطینی علاقے ہوں یا پھر الجیریا۔ عبدالرحمن رشید نے جو لکھا ہے وہ ویسا ہی دفاع ہے جو عموماً مسلمان اپنے مذہب کے حق میں پیش کرتے ہیں کہ مسئلہ اصل میں اسلام کا نہیں بلکہ مسئلہ مسلمانوں کی ایک تھوڑی سی تعداد کا ہے۔ جہاں تک اسلامی شدت پسندوں کی تعداد کا تعلق ہے رشید کی بات ٹھیک ہو سکتی ہے لیکن ان کا تجزیہ اس بات کی کوئی توجیہ پیش نہیں کرتا کہ آخر یوسف القرادوی جیسے ریڈیکل مولوی اتنے مقبول کیوں ہیں۔ رشید کے علاوہ اور بھی عرب نقاد ہیں جو کہتے ہیں کہ فساد کی جڑ اصل میں قرآن اور حدیث کی لفظی تعبیر اور لکیر کا فقیر بننا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||