BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 December, 2006, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حماس کا فتح پر الزام
اسماعیل ھنیہ
اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے ’ہم جانتے ہیں کہ ہم پر کس نے فائر کھولا ہے‘۔
حماس نے فتح کے ایک اہم رکن پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کو غزہ واپس آنے پر قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ محمد دحلان نے اس وقت حملہ کروایا جب اسماعیل ھنیہ مصر کے ساتھ ملنے والی غزہ کی جنوبی سرحد سے گزرتے ہوئے غزہ میں داخل ہو رہے تھے۔

حماس نے کہا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس، جو کہ فتح کے سربراہ بھی ہیں، پر اس حملہ کی کچھ زمہ داری آتی ہے۔

رفاح کے چیک پوائنٹ پر ہونے والے حملے میں ھنیہ کے ایک محافظ ہلاک اور پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ زخمیوں میں ھنیہ کے بیٹا بھی شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسماعیل ھینہ پر ہونے والا یہ حملہ اور حماس کے اپنی مخالف تنظیم پر الزامات سے فلسطین میں جاری سیاسی کشمکش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

حماس کے ترجمان نے کہا ہے ’یہ حملہ باغیوں نے محمد دحلان کے کہنے پر کیا تھا‘۔

محمد دحلان داخلی سیکیورٹی کے سابق وزیر ہیں اور وہ حماس کے کڑے تنقید نگار ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

انہوں نے 1990 کی دہائی میں ’نئی فلسطینی اتھارٹی‘ نامی تنظیم کو تسلیم نہ کرنے والے انتہا پسندوں کے خلاف سخت کاروائی کی تھی۔

فتح کے ترجمان نے حماس کے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے ’ فتح نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کے لیے سرکاری کمیٹی بنائی جائے‘۔

انہوں نے کہا ہے ’ یہ الزامات فلسطین کے قومی اتحاد کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں‘۔

حماس کے کارکن سرحد پر ہونے والی فائرنگ سے بچ رہے ہیں

محمود عباس نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ انہیں ان حملوں پر افسوس ہے۔

اسماعیل ھنیہ نے غزہ پہنچنے کے بعد کہا ہے ’ہم جانتے ہیں کہ ہم پر کس نے فائر کھولا ہے‘۔

ادھر اسرائیل کے نائب وزیر دفاع نے کہا ہے کہ حملے کی خبر سن کر ان کا پہلا ردِ عمل افسوس کا تھا کہ ھنیہ بچ گئے۔

انہوں نے اس سلسلے میں اسرائیلی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا’درحقیقت جذباتی طور پر تو میرے یہی احساسات تھے لیکن جب میں نے اس مسئلے پر ٹھنڈے دماغ سے سوچا، تو میرا نہیں خیال کہ اس قتل سے مسئلہ حل ہو جانا تھا‘۔

حماس نے اس حملے کے بعد اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے غزہ کے اہم مقامات پر اپنے کارکنوں کو تعینات کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد