انتخابات کی تجویز، غزہ میں ہنگامے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے اقتصادی اور حفاظتی بحران سے نکلنے کے لیئے قبل از وقت انتخابات کی تجویز کے بعد غزہ کے علاقے میں مزید ہنگامے ہوئے ہیں۔ ہنگاموں کے دوران حماس کے ایک سینیئر وزیر کے قافلے پر حملہ ہوا جبکہ غزہ میں محمود عباس کی رہائش گاہ پر فائرنگ بھی کی گئی۔ وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے بھی قبل از وقت انتخابات کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے بے چینی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے صدر محمود عباس کی تجویز کو اشتعال انگیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ’ فلسطینی حکومت قبل از وقت انتخابات کی تجویز مسترد کرتی ہے کیونکہ یہ غیر آئینی ہے اور اس کے نتیجے میں فلسطینی سرزمین پر بڑے پیمانے پرگڑبڑ کا اندیشہ ہے‘۔ صدر محمود عباس نے اتوار کو فلسطینی الیکشن حکام سے ملاقات کی جن کا کہنا ہے کہ انہیں انتخابات کی تیاری کے حوالے سے نوے دن کا وقت درکار ہے۔ الیکشن کمشنر حنا ناصر کا کہنا تھا کہ’ ہم نے صدر کو انتخابات کے مراحل کے بارے میں بتایا اور یہ کہ انتخابات کی تیاری میں کم از کم تین ماہ درکار ہیں‘۔ ادھر امریکی انتظامیہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے نئے انتخابات کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے خطے میں جاری تشدد ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان جینی مامو کا کہنا تھا کہ’ اگرچہ انتخابات ایک اندرونی معاملہ ہیں تاہم ہم پر امید ہیں کہ اس سے تشدد کے خاتمے میں مدد ملے گی‘۔ اسرائیل نے بھی فلسطینی علاقے میں قیامِ امن کے لیئے محمود عباس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
سنیچر کو صدر محمود عباس نے کہا تھا کہ وہ قبل از وقت انتخابات کرائیں گے۔ ان کی اس تجویز کو حماس نے حکومت کا تختہ پلٹنے کے مترادف قرار دیا تھا جبکہ برطانیہ اور سپین نے صدر محمود عباس کی تجویز کی حمایت کی تھی۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے انتخابات کرانے کے بیان کے بعد ان کی فتح تنظیم اور عسکریت پسند تنظیم حماس میں مزید تصادم کی اطلاعات ہیں۔ غزہ میں صدرارتی گاڑڈز کے تربیتی کیمپ پر علی الصبح نقاب مسلح پوش افراد نے حملہ کیا اور تقریباً بیس منٹ تک لڑائی اور فائرنگ جاری رہی۔اس حملے میں صدارتی گارڈز کا ایک فرد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ مسلح افرد حماس کی سکیورٹی یونیفارم میں ملبوس تھے لیکن حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حماس اس کارروائی میں ملوث نہیں تھی اور یہ کہنا ’ایک غلط اور غیر ذمہ دار الزام ہے۔‘ فتح اور حماس کے درمیان کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔ جمعرات کو حماس کے رہنما اور فلسطینیوں کے منتخب وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ حماس نے فتح کے ایک اہم اہلکار پر حملہ کرانے کا الزام لگایا تھا۔ اس واقعے کہ بعد غمہ اور غرب اردن میں پر تشدد جھڑپیں ہوئیں۔ اس سے کئی روز پہلے فتح کے ایک سابق سکیورٹی سربراہ کے تین بچوں کو مسلح حملہ آوروں نے ہلاک کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں انتخابات جلد ہونگے: محمود عباس16 December, 2006 | آس پاس انتخابات کی تجویز، امریکی خیرمقدم17 December, 2006 | آس پاس کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات16 December, 2006 | آس پاس غزہ: تین بچوں سمیت چار ہلاک11 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||