BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 December, 2006, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات جلد ہونگے: محمود عباس
محمود عباس
اب یہ بحث چل نکلی ہے کہ صدر کے پاس حکومت برخاست کرنے کا اختیار ہے بھی کہ نہیں؟
فلسطینی صدر محمود عباس نے سرکاری ٹی وی پر براہ راست خطاب کرتے ہوئے بہت جلد صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کا عندیہ دیا ہے۔

رملہ سے کیے گئے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا ’میں نے قبل از وقت انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے‘۔ لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ انتخابات کب کرانا چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی صدر کے لیے انتخابات کی بات کرنا آسان اور انہیں کرانا انتہائی مشکل ہوگا۔ فلسطین میں اکثریت کا کہنا ہے کہ صدر کے پاس حکومت برخاست کرنے کا کوئی اختیار نہیں، لیکن محمود عباس کا اصرار ہے کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔

حماس نے ان کے اس بیان پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کو اس کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے سے تعبیر کیا ہے۔ فلسطین کی موجودہ پارلیمان سال دو ہزار دس تک کے لیے اس سال جنوری میں منتخب ہوئی تھی۔

اپنے خطاب کے دوران صدر محمود عباس نے خبردار کیا کہ اگر فلسطین کی موجودہ اندرونی کشیدگی کا فوری طور پر سیاسی حل نہ نکالا گیا تو یہ حالات فلسطین کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

فلسطینی صدر نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا کہ فتح نے حماس کے وزیرِاعظم اسماعیل حانیہ کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔

خانہ جنگی کا خطرہ
 فلسطین کی موجودہ اندرونی کشیدگی کا فوری طور پر سیاسی حل نہ نکالا گیا تو یہ حالات فلسطین کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں
صدر محمود عباس

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی حل کے بغیر سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے حماس پر الزامات لگائے کہ حماس کی حکومت نہ تو فلسطینیوں کے اندرونی تنازعات کو ختم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کر رہی ہے اور نہ ہی اس حکومت نے مغربی ممالک کی طرف سے براہِ راست امداد کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔

فلسطین کے سینئر مشیر صائب اراکات نے بھی فلسطینی صدر کی تائید کرتے ہوئے کہا ’اگر صدر کو انتخابات یا گولیوں میں سے کوئی ایک چیز چننے کو کہا جائے تو وہ انتخابات چنیں گے۔ اس وقت خانہ جنگی سے بچنے کا واحد حل انتخابات ہیں‘۔

حماس اور فتح کے درمیان تازہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب جمعرات کو وزیرِ اعظم اسماعیل حانیہ کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد حماس نے الزام لگایا کہ اس فائرنگ کے پیچھے صدر محمود عباس کی فتح تنظیم کے اعلیٰ عہدیداروں کا ہاتھ تھا۔

اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور غزہ میں مصر کے سفارتکار دونوں گروہوں کی طرف سے الزام تراشی اور حملوں کے سلسلے کو روکنے میں کوشاں ہیں۔

اسی بارے میں
حماس کا فتح پر الزام
15 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد