بش، بلیئر پر پنٹر کی شدید تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نوبل انعام یافتہ ڈرامہ نگار ہیرلڈ پِنٹر نے کہا ہے کہ جنگِ عراق کے بارے میں ’جھوٹ کا پلندہ‘ پھیلانے کے لیے جارج بش اور ٹونی بلیئر پر مقدمہ چلانا چاہئے۔ اس سال ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والے مصنف نے جنگ کے لیے امریکہ اور برطانیہ پر شدید تنقید کی اور کہا کہ بیشتر سیاست دان ’طاقت اور طاقت پر اپنے کنٹرول کی بقا میں دلچسپی رکھتے ہیں، سچائی میں نہیں۔‘ پِنٹر کی یہ وڈیو تقریر انہیں نوبل انعام دینے کے لیے منعقدہ ایک تقریب میں دکھائی گئی۔ یہ تقریر پہلے سے ریکارڈ کی گئی تھی کیوں کہ ہیرلڈ پنٹر ایک ہفتے سے بیمار ہیں۔ پِنٹر نے کہا کہ سیاست دان سمجھتے ہیں کہ یہ ’ضروری ہے کہ لوگ لاعلم رہیں، سچائی سے بےخبر رہیں، یہاں تک کہ اپنی زندگی کی سچائی سے بھی۔‘ مصنف نے کہا کہ عراق پر حملہ کرنے سے پہلے امریکہ کا دعویٰ کہ صدام حسین کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار تھے، ’سچ نہیں تھا۔‘ انہوں نے کہا: ’حقیقت بالکل مختلف ہے۔‘ پِنٹر کا کہنا تھا کہ ’حقیقت کا تعلق اس سے ہے کہ امریکہ دنیا میں اپنے کردار کا تصور کیسے کرتا ہے اور اس کے اظہار کا کیا طریقہ استعمال کرتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکی حکومت نے ’دنیا میں کئی جگہ دائیں بازو کی ملٹری آمریتوں کو جنم دیا اور ان کی حمایت کی۔‘ انہوں نے کہا: ’میں مثال دوں گا انڈونیشیا، یونان، اروگوائے، برازیل، پراگوئے، ہیٹی، ترکی، فلپائن، گواٹیمالہ، ایل سلواڈور اور بلاشبہ چیلی کی۔‘ پِنٹر نے مزید کہا: ’آپ کو یہ امریکہ کو بتانا پڑے گا۔ اس نے پوری دنیا میں بالکل تکنیکی طور پر طاقت کا استعمال کیا ہے جبکہ انسانی بھلائی کے لیے ایک فورس کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرنے کا ڈرامہ رچاتا رہا۔‘ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ٹونی بلیئر اور صدر جارج بش پر ’جرائم کی عالمی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہئے۔‘ تاہم پنٹر کا کہنا تھا کہ ’اگر لاکھوں نہیں، تو ہزاروں‘ لوگ امریکہ میں اپنی حکومت کی کارروائی کی وجہ سے غصہ میں ہیں اور شرم محسوس کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں مغرب پر نوبیل خاتون کی تنقید10 December, 2003 | آس پاس ایک ہزار خواتین کے لیے نوبیل امن پرائز18 May, 2004 | آس پاس شیریں عبادی کی عدالت میں طلبی13 January, 2005 | آس پاس امن کا نوبل انعام البرادعی کے نام07 October, 2005 | آس پاس کینیا کی خاتون کو نوبل پرائز 08 October, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||