کینیا کی خاتون کو نوبل پرائز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیا کی خاتون ونگری ماتھی کو ماحول اور انسانی حقوق کے لیے کام کے صلے میں نوبل کا امن انعام دیا گیا ہے۔ ونگری ماتھی جو کینیا کی حکومت میں وزیر کے عہدے پر فائز ہیں پہلی افریقی خاتون ہیں جن کو نوبل امن انعام ملا ہو۔ اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادی کے بھی نوبل امن انعام کے لیے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔ امریکی صدر جارج بش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر کو بھی اس انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ ونگری ماتھی نے کہا ہے کہ وہ نوبل انعام کمیٹی کے فیصلے سے بہت خوش ہیں اور وہ اپنی خوشی کو ا لفاظ میں بیان نہیں کر سکتیں۔انہوں نے کہا کہ وہ جہوریت اور امن کے لیے کام کرنے والوں کے لیے ایک مثال ہیں۔ نوبل امن انعام کے لیے ایک سو چورانوے نامزدگیاں کی گیں تھیں۔ ناروے کے دائیں بازو کے سیاستدان جان سمنسن نے امریکی صدر جارج بش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر کا نام تجویز کیا تھا ۔ ناروے کے اس سیاستدان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر حملہ کر کے عراق میں جمہوریت کی بنیاد ڈالی ہے اور جارج بش اور ٹونی بلئیر کو اس کے صلے میں نوبل امن پرآئز ملنا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||