ایک ہزار خواتین کے لیے نوبیل امن پرائز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شیریں عبادی کو جب گزشتہ اکتوبر میں نوبل امن پرائز دیا گیا تو یہ خواتین کے لیے خوشی کی گھڑی تھی لیکن ایران کی حقوق انسانی کی یہ وکیل گزشتہ ایک صدی کے عرصے میں نوبل امن پرائز حاصل کرنے والی صرف گیارہویں خاتون ہیں۔ امن کے فروغ کے لیے خواتین کے کردار کی تاریخ تو ملتی ہیں لیکن درحقیقت ان کے کام کو صحیح طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ سوئٹزرلینڈ کی پارلیمان کی رکن اور کونسل آف یورپ کی نمائندہ رتھ گیبی یہ سب بدلنا چاہتی ہیں۔ وہ ’1000 وومن فار نوبیل پیس پرائز 2005‘ نامی ایک نئے پروجیکٹ پر کام کررہی ہیں جس کے تحت اگلے برس تک دنیا بھر سے ایک ہزار خواتین کو امن کے مشترکہ نوبیل پرائز کے لیے نامزد کیا جائے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ممکن ہوسکے گا تو ان کا جواب تھا ’ ہاں مجھے پورا یقین ہے کہ یہ مہم کامیاب ہوگی۔ ہم ایسی ایک ہزار خواتین کوڈھونڈ نکالیں گے امن کے لیے جن کی خدمات بیش قیمت ہیں اور ان خواتین کو چننے کے لیے ہمارے کچھ اصول اور طریقہ کار ہیں‘۔ اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ امن کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کے کام کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ جینیوا میں پروجیکٹ مینیجر ربیکا ورمونٹ نے بتایا کہ ہر ملک کی آبادی کے تناسب سے وہاں ایسی خواتین کو چنا جائے گا جو امن کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا ’پاکستان سے ہم بیس خواتین کا انتخاب کریں گے جبکہ بھارت سے سو اور بنگلہ دیش سے پچیس خواتین چنی جائیں گی۔ ان عورتوں کی حفاظت کے نقطۂ نظر سے ہم ابھی ان کے نام ظاہر نہیں کرسکتے‘۔ یورپین کونسل کی نمائندہ کے طور پر روتھ گیبی کو کئی ملکوں کے سفر کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے کئی پناہ گزین کیمپس کا دورہ کیا اور بے شمار ایسی خواتین سے ملیں جو کسی نہ کسی صورت میں نا انصافی کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ ’یہ خواتین بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملاتی ہیں، جنگ سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی جان بچاتی ہیں، تشدد اور جنگی مظالم کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ ایسی بھی بے شمار خواتین ہیں جو غریب بچوں کو تعلیم دلواتی ہیں، جمہوریت قائم کرنے کے لیے سرگرم ہیں یا ظالم حکمرانوں کے خلاف لڑرہی ہیں‘۔ روتھ گیبی نے بتایا کہ یہ سب دیکھ کر انہیں احساس ہوا کہ ایسی بے شمار خواتین ہیں جو لوگوں کو زندگی کی امید دیتی ہیں لیکن کوئی بھی ان کا شکر گزار نہیں ہوتا۔
ادارے کے مطابق اس مشترکہ انعام سے ظاہر ہوگا کہ یہ خواتین اپنی زندگیوں میں جو جدوجہد کررہی ہیں یا کرتی رہی ہیں وہ اہم اور مثالی ہے۔ ربیکا ورمونٹ نے کہا ’ان خواتین کو پہچاننے اور ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کی ضرورت ہے۔ امن کے لیے ان تھک کوششیں کرنے کے باوجود کوئی ان کا کبھی شکر گزار نہیں ہوتا‘۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر خواتین کا کام یا تو نظر انداز کردیا جاتا ہے یا پھر اسے کم اہمیت دی جاتی ہے۔ اس طرح ان عورتوں کی صلاحیتیں تسلیم ہی نہیں کی جاتیں اور یہ اپنے صلے سے محروم رہ جاتی ہیں۔ ادارے کی سربراہ کے مطابق یہ پروجیکٹ اگلے سال تک مکمل ہوجائے گا اور اس سلسلے میں اب تک کافی کام ہو بھی چکا ہے۔ دوسری جانب نوروے کی نوبیل پیس کمیٹی کے سیکریٹری گایے لنڈشڈا سے جب اس کمیٹی کی مہم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا ’جب میں نے اس پروجیکٹ کے بارے میں سنا تو یہی لگا کہ یہ ایک کارآمد مہم ہے۔ یہ ہماری توجہ کے لیے کئی نام سامنے لارہے ہیں جنہیں نوبیل امن پرائز کے لیے نامزد کیا جاسکتا ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ نوبیل کمیٹی کے اصول کے مطابق ایک سال کے دوران تین سے زیادہ افراد کو یہ انعام نہیں دیا جاسکتا۔ یہ ہمارے لیے ایک چیلنج ہے‘۔ جب ان سے کہا گیا کہ پچھلی ایک صدی کے دوران صرف گیارہ خواتین ہی کو کیوں نوبیل پرائز دیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ دنیا میں طاقت کے نظام اور مردانہ برتری والے معاشرے کی عکاسی ہے جو اب رفتہ رفتہ بدل رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||