شیریں عبادی کی عدالت میں طلبی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی انقلابی عدالت (ریولوشنری کورٹ) نے امن کا نوبل انعام پانے والی ایرانی خاتون شیریں عبادی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ وکیل اور انسانی حقوق کی علمبردار شیریں عبادی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ انہیں کیوں سمن بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے ابھی تک سمن کا جواب نہیں دیا۔ جواب دینے کے لیے ان کے پاس اتوار تک کا وقت ہے۔ ستاون سالہ شیریں عبادی کو 2003 میں عورتوں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے پر نوبل امن ایوارڈ ملا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’سمن میں لکھا کہ ہے کہ میں تین دن کے اندر عدالت میں حاضری دے کر وضاحت کروں نہیں تو مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔ شیریں عبادی سینٹر فار دی ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے نام سے ایک غیر سرکاری تنظیم چلاتی ہیں اور انہیں نے حکومت مخالف کئی افراد کے مقدمات لڑے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے 2003 میں قتل ہونے والی ایرانی نژاد کینیڈین خاتون فوٹوگرافر زہرا کاظمی کے مقدمے کی پیروی کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||