عراق: پریس اور حکومتیں الگ الگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرق وسطیٰ میں عرب اخبارات عراق میں اقتدار کی منتقلی کوشکوک اور جارحانہ نظر سے دیکھ رہا ہیں ۔ بی بی سی کے نامہ نگار پال ووڈ نے کہا ہے کہ اس کی مثال متحدہ عرب امارات کے اخبار ’العبایہ‘ سے ملتی ہے جس نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ نئے عراق کے بارے میں وہ شیریں الفاظ استعمال کر کے آزادی، تباہی، افراتفری اور حقیقی اقتدار اعلیٰ کی غیرموجودگی پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عام عرب شہری کے لیے اقتدار کی منتقلی کی قانونی حثیت کو قبول کرنے کا انحصار اس فاصلے اور رفتار پر ہوگا جس سے نئی حکومت اپنے آپ کو امریکہ سے دور کرے گی۔ مشرق وسطیٰ میں عرب حکومتوں کا ردعمل ملا جلا ہے اور امریکہ کے حامی اقتدار کی منتقلی کو خوش آئیند قرار دیتے ہیں۔ کویت کے وزیراعظم شیخ صباح الصباح نے کہا ہے کہ جو لوگ عراق کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں انہیں اب معلوم ہو جائے گا کہ مغربی طاقتیں نہیں بلکہ وہاں کے لوگ حقیقت میں اقتدار میں ہیں۔ اردن نے بھی کہا ہے کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ اس تبدیلی سے عراق میں استحکام اور امن پیدا ہوگا۔ پڑوسی ملک شام کا رد عمل منفی ہے۔ شام کے ایک ترجمان نے ایک عربی چینل کو بتایا کہ عراق میں امن تب آئے گا جب امریکہ وہاں سے فوجیں واپس بلائے گا۔ شمالی عراق میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور نے بتایا ہے کہ اقتدار کی منتقلی کا چونکہ کردوں کی صورتحال پر فوراً کوئی اثر نہیں پڑے گا اس لیے وہاں خوشیاں منانے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔ عراقی کرد اب اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہیں ہیں اور انہیں اپنا مستقبل بھی غیر یقینی لگ رہا ہے اور وہ اس کا ذمہ دار اتحادی ملکوں کو ٹھہرا تے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||