 | | | ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام جاری رکھے گی |
ایران پر سلامتی کونسل کی جانب سے تجارتی پابندیاں لگائے جانے کی متفقہ منظوری پر اقوامِ عالم کی جانب سے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایران کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اسے جاری رکھے گا۔ اقوامِ متحدہ میں برطانوی سفیر ایمر جونز پیری ایران کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ آج کا ووٹ اس بات کا مظہر ہے کہ ہم بطور کونسل ایران کے فیصلے کو کس اہمیت اور سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ایران سالمت کونسل کے فیصلے کی پاسداری کرے گا اور جوہری معاملے پر دوبارہ مذاکرات کی میز کا رخ کرے گا۔ اقوامِ متحدہ میں ایرانی سفیر جاوید ظریف آج کا دن عدم پھیلاؤ کے حوالے سے برا دن ہے۔ یہ وہ حکومتیں ہیں جنہوں نے سلامتی کونسل کو مجبور کیا کہ وہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف بے بنیاد سزا کے اقدامات کرے لیکن انہوں نے ہی اسے اسرائیل کے خلاف ایٹمی عدم پھیلاؤ کے اصولوں کی پاسداری نہ کرنے پر کارروائی نہ کرنے دی۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ فلپ دوستے بلیزی آج پہلے سے کہیں زیادہ ہمارا مقصد ایران کو قائل کرنا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔ اقوامِ متحدہ میں جاپانی سفیر کنزو اوشیما ہم ایران سے امید اور اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد بین الاقوامی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے سفارتی مذاکرات کے ذریعے اس معاملے کو حل کرے۔ یہ ناممکن کام نہیں اور اس سلسلے میں جاپان ایران سے دو طرفہ مذاکرات اور دیگر سفارتی ذرائع کی مدد سے اس معاملے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع بین الاقوامی برادری کو ایران کا جوہری پروگرام بند کرنے کے مقصد کی تکمیل تک عزم و ہمت دکھانا ہوگی۔ |