ایران پر حملے کا ارادہ نہیں: اسرائیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی حکومت نے ایک برطانوی اخبار کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ’سنڈے ٹائمز‘ کی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا جس میں اسرائیلی فوجی ذرائع کے حوالے سے حملوں کی تیاری کا منصوبہ افشاء کیا گیا ہے۔ ادھر ایرانی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اگر اس پر حملہ کیا گیا تو حملہ آور کو منہ توڑ جواب دیا جائےگا۔ ’سنڈے ٹائمز‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو شک ہے کہ ایران نے اتنا یورینیم افزودہ کر لیا ہے کہ وہ جلد جوہری ہھتیار تیار کر سکتا ہے اور اس لیے اس نے نتانز، اصفہان اور آراک میں واقع ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کا خفیہ منصوبہ تیار کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کے حوالے سے اسرائیلی فضائیہ کے دو سکوارڈن ٹریننگ میں مصروف ہیں اور اس حملے کے دوران ’بنکر بسٹر‘ بم اور چھوٹے جوہری ہتھیار استعمال کیے جائیں گے۔ اخبار کے مطابق حملوں کے لیے جن تین مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں نتانز میں یورینیم کی افزودگی میں مصروف سنٹری فیوجز کی عمارت، اصفہان کے نزدیک ’یورینیم کنورژن فسیلیٹی‘ اور آراک میں بھاری پانی پانی کا ایک ری ایکٹر شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مقامات کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیلی حکام کے خیال میں اگر یہ تینوں مقامات تباہ کر دیے جائیں تو ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار کرنے کے قابل نہیں ہو سکے گا۔ | اسی بارے میں ’جوہری پروگرام جاری رہے گا‘02 January, 2007 | آس پاس ایران:جوہری ادارے سے تعاون پرنظرثانی25 December, 2006 | آس پاس احمدی نژاد: قرارداد کاغذ کا پرزہ ہے24 December, 2006 | آس پاس ایران پر پابندیاں لگانے کی منظوری23 December, 2006 | آس پاس ’ایران خطے کے لیے خطرہ ہے‘20 December, 2006 | آس پاس ایران کو تیس دن کی مہلت 30 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||