’جوہری پروگرام جاری رہے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ان کا ملک جوہری پروگرام کے حق سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایرانی صدر نے یہ بات تیل کی صنعت کے حوالے سے اہم علاقے خوزستان میں ایک جلسے میں کہی۔ مغربی خوزستان کے مقام اہواز میں ہونے والے اس جسلے میں لوگ امریکہ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ ایرانی صدر کی یہ تقریر قومی ٹیلی وژن پر براہ راست نشر کی گئی۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ دسمبر میں سلامتی کونسل کا ایران پر اقتصادی پابندیاں لگانے کا فیصلہ جائز نہیں تھا اور اگر مغربی ممالک نے ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی کی تو ایران انہیں ایک ’تاریخی تھپڑ رسید کرے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ تمام قوتیں جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں صدام حسین کی حمایت کی تھی اب پھر ایران کے خلاف متحد ہو جائیں تب بھی ایران انہیں ایک تاریخی تھپڑ دے گا۔ ادھر دارالحکومت تہران میں حکومت کے ترجمان غلام حسین الہام نے کہا ہے کہ اگر ایران کو اس کے حقوق سے محروم رکھا گیا یا اس پر مزید دباؤ ڈالا گیا تو وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے خدشہ ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کے مقاصد پُرامن ہیں۔ | اسی بارے میں ایران:جوہری ادارے سے تعاون پرنظرثانی25 December, 2006 | آس پاس ایران پر پابندیاں لگانے کی منظوری23 December, 2006 | آس پاس ایران پر پابندیاں: عالمی ردعمل23 December, 2006 | آس پاس ’ایران خطے کے لیے خطرہ ہے‘20 December, 2006 | آس پاس احمدی نژاد: قرارداد کاغذ کا پرزہ ہے24 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||