ایرانی قونصلیٹ پرامریکی حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی عراق کے شہر اربیل میں موجود ایرانی قونصلیٹ پر امریکی فوج نے حملہ کرکے وہاں پر کام کرنے والے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔ کرد خبر رساں ادارے اور مقامی حکام کے مطابق امریکی فوجیوں نے اس عمارت پر دن کے تین بجے حملہ کیا اور وہاں پر موجود کمپیوٹر اور دیگر دستاویزات بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ امریکی فوج نے اس حملے کے حوالے سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے ہی سے شدید کشیدگی ہے۔ بش انتظامیہ ایران پر الزام عائد کر رہی ہے کہ وہ عراق میں فسادات کو مزید ہوا دے رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیار بھی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران ان دونوں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ امریکی فوج نے مشرق وسطٰی میں اپنی فوجیں بھیج کر پورے خطے کی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک مقامی ٹی وی سٹیشن کے مطابق کہ امریکی فوجوں کے ایرانی قونصلیٹ سے جانے کے بعد کرد امن فوجوں نے اس عمارت پر قبضہ کر لیا ہے۔ اربیل عراق میں کردوں کے زیرِ انتظام شمالی علاقوں میں آتا ہے اور دارالحکومت سے تقریبًا تین سو پچاس کلومیٹر پر واقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں پچھلے سال ایرانی قونصلیٹ کرد کی علاقائی حکومت کے ساتھ اس معاہدے کے تحت بنایا گیا تھا کہ اس سے دونوں ملکوں کے عوام کو سرحد کے پار آنے جانے میں مدد ملے گی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان کی بغداد میں موجود ان کے سفارت خانے نے عراقی وزارت خارجہ کو خط لکھ کر اس حملے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ پچھلے سال دسمبر میں امریکی فوجیوں نے عراق میں موجود متعدد ایرانیوں کو گرفتار کر لیا تھا جن میں سے دو ایرانی سفیر تھے اور انہیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں عراق میں امریکی فوج میں اضافہ 10 January, 2007 | آس پاس عراق میں مزید فوج کا اعلان آج متوقع 10 January, 2007 | آس پاس طالبانی نے مہمان بلائے، امریکیوں نے پکڑ لیے25 December, 2006 | آس پاس حراست:امریکہ سے ایران کا احتجاج26 December, 2006 | آس پاس عراق پالیسی: ’بش کا نیا نسخہ‘10 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||