حراست:امریکہ سے ایران کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے بغداد میں دو ایرانیوں کی گرفتاری پر امریکہ سے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ دنوں سفارتکار ہیں جو عراقی صدر جلال طالبانی کی دعوت پر وہاں گئے تھے۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ امریکی فوج نے عراق میں بہت سے ایرانیوں کو گرفتار کیا ہے جو حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ عراقی صدر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ مسٹر طالبانی واقعہ پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں سے امریکہ کہ ان دعوؤں کو تقویت ملتی ہے کہ ایران، عراق میں گڑبڑ کروا رہا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے اِرنا کی رپورٹ کے مطابق تہران میں امریکی مفادات کی نگرانی کرنے والے سوئٹزرلینڈ کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے اس معاملے پر بات کی گئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اس کے نتائج خوشگوار نہیں ہوں گے۔ بغداد میں صدر جلال طالبانی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی سکیورٹی اہلکار ان کی دعوت پر عراق آئے تھے تاکہ قیام امن میں مدد دے سکیں۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ انہوں نے دو سفارتکاروں سمیت کئی ایرانیوں کو گرفتار کیا ہے تاہم سفارتکاروں کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔ | اسی بارے میں طالبانی نے مہمان بلائے، امریکیوں نے پکڑ لیے25 December, 2006 | آس پاس ایران حکومت کی مدد کرے: عراق28 November, 2006 | آس پاس عراق کے صدر کو ایران کی دعوت21 November, 2006 | آس پاس ’تشددمہینوں میں ختم ہوسکتاہے‘17 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||