BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 November, 2006, 22:53 GMT 03:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران حکومت کی مدد کرے: عراق
جلال طالبانی کو ایران کا دوست سمجھا جاتا ہے اور وہ دوسری مرتبہ تہران گئے ہیں
عراق کے صدر جلال طالبانی نے ایران سے کہا ہے کہ وہ عراق میں شعیہ ملیشیا گروپوں کی حمایت کی بجائے عراق کی منتخب حکومت کی ہر ممکن مدد کرے۔

عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زبیری کے مطابق صدر جلال طالبانی نے جو ان دنوں ایران کے دورے پر ہیں، ایرانی حکام سے کہا ہے کہ عراق میں صورتحال بہت سنگین ہے اور ایران کو عراق کی موجودہ حکومت کی بھر پور مدد کرنی چاہیے۔

ہوشیار زبیری نے کہا کہ انھیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ایرانی حکومت عراق کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے لیے کسی حد تک راضی ہے ۔

گزشتہ روز ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خِامنہ ای نے کہا تھا کہ عراق سے تمام غیر ملکی افواج کی واپسی، عراق میں امن و امان کی بہتری کی جانب پہلا قدم یہ ہوگا۔ ایرانی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے کہا گیا تو ان کا ملک عراق میں استحکام کے لیے ہر ممکن مدد کرے گا ۔

دریں اثناء امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں چھپنے والی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ عراق میں ایک بڑی شعیہ ملیشیا مہدی آرمی سے تعلق رکھنے والے افراد کو لبنانی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے فوجی تربیت دی جاتی ہے۔ حزب اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے ایران کی مدد اور تعاون حاصل ہے۔

رپورٹ میں امریکی انٹیلیجنس کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مہدی آرمی اور دیگر شعیہ گروپوں کےایک سے دو ہزار کارکن اب تک لبنان میں تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

اس رپورٹ میں امریکی انٹیلیجنس کے اہلکار کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ اس اہلکار کا کہنا ہے کہ عراق کے شدت پسند شعیہ گروپوں اور حزب اللہ کے درمیان رابطوں کو ایران کی سرپرستی حاصل ہے۔

حزب اللہ کی جانب سے اس رپورٹ پر اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے ۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ عراق میں استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ایران کو بھی شامل کیا جائے یا نہیں ۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے متفقہ طور پر عراق میں غیر ملکی افواج کے قیام کے معیاد میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔

اس توسیع کا فیصلہ عراقی حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے جس کا کہنا ہے کہ عراق میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر غیر ملکی افواج کی موجودگی بہت ضروری ہے اور یہ کہ عراق کی اپنی فوج ابھی تیاری کے مراحل میں ہے۔

عراق میں اس وقت ڈیڑھ لاکھ سے زائد غیر ملکی افواج موجود ہے جس میں اکثریت امریکی فوج کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد