BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 October, 2006, 21:20 GMT 02:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تشددمہینوں میں ختم ہوسکتاہے‘
 عراقی صدر جلال طالبانی
جیمز بیکر گزشتہ خلیجی جنگ میں بش سینئر کے دور میں وزیرِ خارجہ تھے
عراق کے صدر جلال طالبانی نے کہا ہے کہ اگر ایران اور شام عراق میں استحکام لانے کی کوششوں میں مدد کریں تو ملک میں جاری تشدد مہینوں میں ختم ہو سکتا ہے۔

عراقی صدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا اگر ایران اور شام، عراق میں امن کی کوششوں میں شامل ہو جائیں تو یہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے اختتام کا آغاز ثابت ہوگا۔

عراق کی صورتِ حال میں بہتری کی کوششوں میں شام اور ایران کی ممکنہ شمولیت کا عندیہ امریکی ماہرین کے اس پینل میں بحث کے بعد سامنے آیا ہے جو اطلاعات کے مطابق اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ عراق کے لئے امریکی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ٹونی بلئر نے کہا ہے کہ عراق اور افغانستان سے اتحادی افواج اپنا کام مکمل کر کے ہی واپس آئیں گی

اس پینل کی سربراہی سابق امریکی وزیرِ خارجہ جیمز بیکر کر رہے ہیں جن کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ یہ بھی غور کر رہے ہیں کہ امریکی فوج کا عراق میں رہنا صورتِ حال کی بہتری میں ممد نہیں ہو سکتا۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ جیمز بیکر جو گزشتہ خلیجی جنگ میں امریکہ کے وزیرِ خارجہ تھے اور جو بش خاندان کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، عراق کی صورتِ حال پر پریشان ہیں۔

تاہم عراقی صدر جلال طالبانی کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات سے کوئی پریشانی نہیں کہ جیمز بیکر کا پینل اس بات کی سفارش کر سکتا ہے کہ عراق سے امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں کو جلد واپس بلایا جائے۔

جیمز بیکر کمیشن کیا کر رہا ہے
جمیز بیکر کا کمیشن جو آئندہ چند ماہ میں اپنی رپورٹ جاری کرے گا مبینہ طور پر غور کر رہا ہے کہ کہ عراق کے لئے امریکی پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بی بی سی کے جِم میور کو بتایا: ’مجھے یقین ہے کہ عراق سے جلدی نکلنے کا فیصلہ کوئی نہیں کرے گا۔‘

جمیز بیکر کا کمیشن جو آئندہ چند ماہ میں اپنی رپورٹ جاری کرے گا مبینہ طور پر غور کر رہا ہے کہ کہ عراق کے لئے امریکی پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلوں کی ضرورت ہے۔

وہ ٹاسک فورس جسے امریکی کانگریس نے عراق میں امریکی پالیسی کے اثر و نفوذ اور کامیابی کا معائنہ کرنے کے لئے کہا تھا، دو مختلف امکانات پر غور کر رہی ہے جوصدر بش کی پالیسی کا الٹ ہیں۔

جمیز بیکر نے اب تک اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ان کے پینل نے عراق کے بارے میں تا حال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

تاہم حالیہ ٹی وی انٹرویوز کے دوران انہوں نے پینل کے ارکان کی سوچ کے بارے میں اشارہ ضرور دیا ہے۔

انہوں نے اے بی سی ٹیلیوژن سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمارے کمیشن کا خیال ہے عراق کے لئے اعلانیہ امریکی پالیسی کی بجائے اس کے بدل موجود ہیں۔‘

ادھر برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلئر نے کہا ہے کہ عراق اور افغانستان سے اتحادی افواج اس وقت تک واپس نہیں آئیں گی جبتک ان کا کام مکمل نہیں ہو جاتا۔۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد