’تشددمہینوں میں ختم ہوسکتاہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے صدر جلال طالبانی نے کہا ہے کہ اگر ایران اور شام عراق میں استحکام لانے کی کوششوں میں مدد کریں تو ملک میں جاری تشدد مہینوں میں ختم ہو سکتا ہے۔ عراقی صدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا اگر ایران اور شام، عراق میں امن کی کوششوں میں شامل ہو جائیں تو یہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے اختتام کا آغاز ثابت ہوگا۔ عراق کی صورتِ حال میں بہتری کی کوششوں میں شام اور ایران کی ممکنہ شمولیت کا عندیہ امریکی ماہرین کے اس پینل میں بحث کے بعد سامنے آیا ہے جو اطلاعات کے مطابق اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ عراق کے لئے امریکی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
اس پینل کی سربراہی سابق امریکی وزیرِ خارجہ جیمز بیکر کر رہے ہیں جن کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ یہ بھی غور کر رہے ہیں کہ امریکی فوج کا عراق میں رہنا صورتِ حال کی بہتری میں ممد نہیں ہو سکتا۔ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ جیمز بیکر جو گزشتہ خلیجی جنگ میں امریکہ کے وزیرِ خارجہ تھے اور جو بش خاندان کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، عراق کی صورتِ حال پر پریشان ہیں۔ تاہم عراقی صدر جلال طالبانی کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات سے کوئی پریشانی نہیں کہ جیمز بیکر کا پینل اس بات کی سفارش کر سکتا ہے کہ عراق سے امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں کو جلد واپس بلایا جائے۔
انہوں نے بی بی سی کے جِم میور کو بتایا: ’مجھے یقین ہے کہ عراق سے جلدی نکلنے کا فیصلہ کوئی نہیں کرے گا۔‘ جمیز بیکر کا کمیشن جو آئندہ چند ماہ میں اپنی رپورٹ جاری کرے گا مبینہ طور پر غور کر رہا ہے کہ کہ عراق کے لئے امریکی پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلوں کی ضرورت ہے۔ وہ ٹاسک فورس جسے امریکی کانگریس نے عراق میں امریکی پالیسی کے اثر و نفوذ اور کامیابی کا معائنہ کرنے کے لئے کہا تھا، دو مختلف امکانات پر غور کر رہی ہے جوصدر بش کی پالیسی کا الٹ ہیں۔ جمیز بیکر نے اب تک اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ان کے پینل نے عراق کے بارے میں تا حال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم حالیہ ٹی وی انٹرویوز کے دوران انہوں نے پینل کے ارکان کی سوچ کے بارے میں اشارہ ضرور دیا ہے۔ انہوں نے اے بی سی ٹیلیوژن سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمارے کمیشن کا خیال ہے عراق کے لئے اعلانیہ امریکی پالیسی کی بجائے اس کے بدل موجود ہیں۔‘ ادھر برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلئر نے کہا ہے کہ عراق اور افغانستان سے اتحادی افواج اس وقت تک واپس نہیں آئیں گی جبتک ان کا کام مکمل نہیں ہو جاتا۔۔ | اسی بارے میں موسٰی قلعہ سے برطانوی فوج واپس17 October, 2006 | آس پاس ’وہی کہا جو فوج کیلئے ٹھیک ہے‘13 October, 2006 | آس پاس عراق سے جلد نکلنا بہتر: برطانوی جنرل12 October, 2006 | آس پاس امریکی اسلحہ ڈپو میں دھماکے11 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||