’وہی کہا جو فوج کیلئے ٹھیک ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی فوج کے سربراہ نے اپنے اس بیان کا دفاع کیا ہے کہ عراق سے برطانوی فوج کو ’کہیں عنقریب‘ نکل آنا چاہیئے تاہم انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ حکومت اور ان کے خیالات میں اس مسئلہ پر کوئی ’بڑا خلاء‘ پایا جاتا ہے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے سر رچرڈ ڈینٹ نے کہا کہ انہوں نے جمعرات کو جو کہا تھا اس کا مقصد’یہ کہنا تھا کہ برطانوی فوج کے لیئے کیا موزوں ہے۔‘ برطانوی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف نے جمعرات کو روزنامہ ’ ڈیلی میل‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ عراق میں برطانوی فوج کی موجودگی وہاں سکیورٹی کے مسائل کو گھمبیر بنا رہی ہے۔ سر رچرڈ کے بیان پر وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ترجمان نے کہا کہ عراق میں برطانوی فوج کی موجودگی’عراقی حکومت کی واضح خواہش‘ اور اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت ہے۔ دریں اثناء جنگ کے مخالف گروپوں نے سر رچرڈ کے بیان کا خیر مقدم کیا اور اس بات کی تعریف کی کہ فوج کے سربراہ نے اپنے خیالات کا کھل کا اظہار کیا۔ تاہم جمعہ کو بی بی سی ریڈیو فور کو انٹرویو دیتے ہوئے سر رچرڈ نے کہا کہ انہوں نے جو بیان ڈیلی میل کو دیا تھا ’اس میں نہ تو بڑی بات تھی اور نہ ہی کوئی نئی خبر‘ تھی۔ انہوں نے کہا ’ میرا ارادہ قطعاً ایسا ہنگامہ پیدا کرنا نہیں تھا جس سے لوگ کل رات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں کہ میرے اور وزیراعظم ٹونی بلیئر کے درمیان ایک بڑا خلاء آ گیا ہے۔‘ عراق سے فوجوں کے واپسی کے بارے میں اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے برطانوی جنرل نے کہا ’یہ بات سامنے رکھتے ہوئے کہ ہمیں عراق میں ساڑھے تین سال ہو گئے ہیں، جو کہ کافی طویل عرصہ ہے، اور یہ بھی کہ فوج کو کافی دباؤ میں کام کرنا پڑ رہا ہے، جب زیادہ تر کام ہو جائے تو ہمیں عراق سے نکل جانا چاہیئے۔‘ انہوں نے مزید کہا ’ہم وہاں دو، تین، چار یا پانچ سال تک نہیں رہنا چاہتے۔ ہمیں عراق سے واپسی کے بارے میں ایک حقیقت پسندانہ مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیئے۔‘ سر رچرڈ نے کہا کہ عراق میں موجود برطانوی فوجیں کام کر رہی ہیں اور جن چار صوبوں کی ذمہ داری ان کے پاس تھی ان میں سے دو عراقی کنٹرول میں دے دیئے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں عراق: تقسیم ،خانہ جنگی کےخدشات 03 August, 2006 | آس پاس عراق کا مستقبل کیا؟10 August, 2006 | آس پاس کرفیو: بغداد میں سڑکیں سنسان24 February, 2006 | آس پاس عراقی صوبے ذی قار میں اقتدار منتقل21 September, 2006 | آس پاس عراق:’ماڈل شہر‘ میں ہلاکتیں07 October, 2006 | آس پاس عراق: ہزاروں جانیں ضائع 16 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||