ایران پر بم بنانے میں مدد کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ ایران عراق میں مزاحمت کاروں کی مدد کر رہا ہے اور وہ ایسا کرنا بند کر دے۔ امریکی انڈر سیکرٹری خارجہ نکولس برنز نے ایک بار پھر ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ شیعہ تنظیموں کو امریکی اور برطانوی فوجیوں کے خلاف کام آنے والے بم بنانے کے لیے معلومات فراہم کر رہا ہے۔ برنز نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی فوج نے کئی ایسے ایرانیوں کو حراست میں لیا ہے جن پر عراق میں فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ان نے امریکہ کا یہ الزام بھی دہرایا کہ جنوری کے شروع میں سمالی عراق سے گرفتار ہونے والی پانچ ایرانی سفارتکار نہیں بلکہ نیم فوجی دستوں کے ارکان تھے۔ امریکی صدر جارج بُش نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ فوج کو ایران کی طرف سے مبینہ مداخلت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’امریکہ ایران پر حملہ نہیں کر سکتا‘24 January, 2007 | آس پاس کانگرس کی نہیں مانوں گا: بش27 January, 2007 | آس پاس ایران :البرادعی کی تجویز مسترد30 January, 2007 | آس پاس امریکی امیدیں ’غیر حقیقت پسندانہ‘31 January, 2007 | آس پاس اقوام متحدہ کا چیف انسپکٹر مسترد27 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||