’امیدیں غیر حقیقت پسندانہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے نئے متوقع کمانڈر ایڈمرل ولیم فیلن نے کہا ہے کہ غالبًا وقت آگیا ہے کہ امریکہ عراق میں اپنی کامیابیوں کی توقعات کم کردے۔ ایڈمرل ولیم فیلن نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کی کمیٹی کے سامنے عراق کے حوالے سے کچھ نئی تصیلات بیان کرتےہوئے انہوں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ امریکہ کو عراق میں ایک ہی وقت میں بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں اس نئے عہدے پر تعینات کیا جاتا ہے تو ان کی پہلی ترجیح یہی ہو گی کہ وہ عراق پر ایران کا اثر کم کریں۔ ان کا حالیہ بیان عراق میں عاشورہ کے موقع پر چالیس شیعہ مسلمانوں کی ہلاکت کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ بموں اور مارٹر حملوں میں سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ واشنگٹن میں ایڈمرل فیلن نے کمیٹی کو بتایا کہ عراق کے بارے میں سابق امریکی حکمت عملی کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر یقین ہے کہ عراق میں صورت حال تبدیل کی جا سکتی ہے لیکن وقت بہت کم ہے۔ ’اس سلسلے میں ہم جو کچھ بھی کرتے رہے ہیں اس نے صورت حال کو تبدیل کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ صورت حال کے جائزے کے بعد مجھے یہی نظر آتا ہے کہ ہمیں کچھ مختلف کرنا ہے‘۔ ایڈمرل فیلن کا کہنا تھا کہ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے تاہم کمیٹی ان کی بہترین صلاحیتوں پر انحصار کر سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں خطے میں ایران کے اثر کو کم کرنے کوششوں کے ضمن میں حمایت درکار ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں ایران کے ساتھ جنگ کے کسی منصوبے سے واقف نہیں ہیں۔
ایڈمرل فیلن کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ایران کی خواہش ہے کہ وہ حمکت عملی کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل خلیح عرب میں امریکی آزاد نقل و حمل کو محدود کردے۔ تاہم ایڈمرل فیلن نے کمیٹی کو یہ نہیں بتایا کہ عراق کے حوالے سے کیا مختلف کیا جانا چاہیے۔ ان کے ترجمان کیپٹن ولیم ایلڈرسن نے بعد ازاں خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ان کی ترجیح یہ ہوگی کہ وہ سینٹ سے اپنی منظوری کے بعد ہی اس بارے میں تفصیلات بتائیں گے۔ ایڈمرل فیلن اس وقت بحرالکاہل میں امریکی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اگر ایڈمرل فیلن مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے سربراہ کا عہدہ سنبھال لیتے ہیں تو وہ امریکی بحریہ کے پہلے افسر ہوں گے جو سینٹرل کمانڈ کی سربراہی کریں گے۔ وہ جنرل جان ابی زید کی جگہ لیں گے جو چار سال تک سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کا عہدے سنبھالنے کے بعد اب ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اگر ایڈمرل فیلن کی تعیناتی کی تصدیق کردی جاتی ہے تو وہ حال ہی میں عراق میں امریکی فوج کی کمان سنبھالنے والے جنرل ڈیوڈ پیٹریوس کے بھی افسر اعلیٰ ہوں گے۔ |
اسی بارے میں عراق پالیسی کو ایک موقع دیں: بش24 January, 2007 | آس پاس صدر بش کی عراق پالیسی مسترد24 January, 2007 | آس پاس عراق جنگ کیخلاف واشنگٹن احتجاج28 January, 2007 | آس پاس ’عراق خانہ جنگی کے راستے پرگامزن‘ 29 January, 2007 | آس پاس عراق:مارٹر حملہ اور دھماکے، 40 ہلاک30 January, 2007 | آس پاس عراق پر حلیفوں میں ’اختلافات‘24 January, 2007 | آس پاس مزید فوج عراق بھیجنے کی مخالفت18 January, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||