BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 January, 2007, 22:48 GMT 03:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق پر حلیفوں میں ’اختلافات‘
ٹونی بلیئر کے ترجمان نے تردید کی ہے کہ امریکہ اور برطانیہ میں عراق کے معاملے پر کوئی اختلافات ہیں
عراق میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زاد نے عراق میں مستقبل کی حکمت عملی پر امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اختلافات کا انکشاف کیا ہے۔

دو ہزار تین میں عراق پر حملہ کرنے کے بعد سے یہ پہلا اشارہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ میں اس سلسلے میں اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔تاہم لندن میں وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کے ترجمان نے تردید کی ہے کہ عراق میں برطانوی فوج کی تعیناتی یا انخلاء کے معاملے پر امریکہ سے کوئی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

برطانوی حکومت اس سال بصرہ سے اپنی فوج کا جزوی انخلاء چاہتی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسٹر خلیل زاد نے کہا کہ امریکہ اس سلسلے میں برطانیہ سے بات چیت کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ برطانیہ جنوبی عراق میں اپنی فوج کم نہ کرے۔ خیال ہے کہ برطانیہ اس سال بصرہ سے اپنی فوج کچھ حد تک واپس بلا لے گا۔

آجکل امریکہ عراقی دارالحکومت بغداد میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر کرنے کے سلسلے میں عراق میں مزید فوجی بھیج رہا ہے۔ ساتھ ہی برطانیہ جنوبی عراق سے اپنی فوج کم کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔

توقع ہے کہ بصرہ میں تعینات تقریباً سات ہزار برطانوی فوجی اس سال واپس بلا لیے جائیں گے۔

عراق میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ امریکہ کو امید ہے کہ برطانیہ اس وقت عراق میں اپنی فوج کم نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا: ’ہم فوج بڑھانے کا پورا ارادہ رکھتے ہیں لیکن برطانیہ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں لگتا۔ ان کی طرف سے فوج کم کرنے کی مختلف اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور ہم اس سلسلے میں ان سے بات چیت کر رہے ہیں، خاص کر بصرہ کے بارے میں جہاں ہمیں برطانوی فوج کی مدد حاصل ہے۔‘

مسٹر خلیل زاد کا کہنا تھا کہ امریکہ، برطانیہ کے ساتھ مل کر عراق میں درپیش مسائل سے نمٹنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ برطانیہ ہم سے تعاون کرے اور ہم ایک مشترکہ منصوبہ بنائیں۔ ہم اس پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ہم جتنی دیر تک ساتھ رہ سکیں، اتنا ہی بہتر ہو گا۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم دونوں کے لیے قابل قبول اتفاق پر پہنچ سکیں گے۔‘

دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ نے اپنی حکومت کی عراق سے فوج واپس بلانے کی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیا ہے۔

لندن میں پارلیمانی بحث کے دوران مسز بیکٹ کا کہنا تھا کہ برطانوی فوج کو صورتحال دیکھ کر واپس بلایا جائے گا لیکن امید ہے کہ اس سال کئی ہزار فوجی عراق سے واپس آ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا جنوبی عراق کے حالات باقی ملک سے کافی مختلف ہیں۔

مارگریٹ بیکٹ نے کہا: ’ہم نے کسی قسم کی ٹائم لائن کا تعین نہیں کیا ہے۔ اتحاد میں شامل باقی ممالک اور عراقی ساتھیوں کی طرح، ہم اپنے علاقوں میں مسائل سے نمٹنے کے لیے سب سے مؤثر طریقہ کار اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور ہم یہ پہلے بھی کئی مرتبہ سمجھا چکے ہیں کہ جن مشکلات کا جنوبی عراق میں ہمیں سامنا ہے، وہ بغداد اور اس کے ہمسایہ صوبوں میں مسائل سے بہت مختلف ہیں۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مسز بیکٹ کے اس بیان سے لگتا ہے کہ ابھی امریکہ اور برطانیہ کے درمیان مشترکہ حکمت عملی پر بات چیت جاری ہے۔ لیکن اس وقت وزیر اعظم ٹونی بلیر کے لیے عراق سے فوج واپس بلانے کے منصوبے کو بدلنے میں بہت مشکلات ہوں گی۔

فوج معذرت کرے گی
ہلاک شدہ امریکی فوجیوں کا بلاوہ
عراقی پناہ گزینعراق سے نقل مکانی
ہر آٹھواں عراقی گھر بار چھوڑنے پر مجبور
صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد