BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 January, 2007, 02:51 GMT 07:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزید فوج عراق بھیجنے کی مخالفت
عراقی سکیورٹی عراقیوں کے حوالے کریں: سینیٹرز
تین اہم امریکی سینیٹر عراق میں مزید فوج بھیجنے کے صدر جارج بش کے منصوبے کے خلاف ایک قرارداد پر متفق ہوگئے ہیں۔ ان سینیٹروں کا کہنا ہے کہ مزید فوج بھیجنے کا منصوبہ امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے اور سکیورٹی کے معاملات عراقی رہنماؤں کے حوالے کردیا جانا چاہیے۔

ان میں سے دو سنیٹیروں کا تعلق حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹِک پارٹی اور ایک کا حکمران جماعت ریپبلیکن پارٹی سے ہے۔ ڈیموکریٹِک پارٹی کے جوسیف بیدین اور کارل لیوِن اور ریپلیکن پارٹی کے جنگ مخالف سینیٹر چک ہیگل کی اس قرارداد پر عمل کرنا صدر بش کے لیے لازمی نہیں ہوگا۔

یہ سینیٹر اس قرارداد پر ایک ایسے وقت متفق ہوئے ہیں جب امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹِک پارٹی کا کنٹرول ہے۔ تاہم جارج بش کی انتظامیہ عراق میں مزید فوج بھیجنے کے منصوبے پر گامزن رہے گی۔

گزشتہ ہفتے صدر بش نے اعلان کیا تھا کہ وہ مزید بیس ہزار فوجی عراق بھیج رہے ہیں تاکہ بغداد میں سکیورٹی قائم کی جاسکے۔

سینیٹروں کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’یہ امریکہ کے قومی مفاد میں نہیں ہے کہ عراق میں اپنی فوجی مداخلت مزید بڑھائے۔‘ قرارداد میں جارج بش کی انتظامیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کم کرنے اور داخلی سکیورٹی قائم کرنے کی ذمہ داری عراقی حکومت اور عراقی سکیورٹی فورسز کے ذمہ کردی جائے۔

قرارداد کا کوئی قانونی اثر نہیں
 اس قرارداد کا کوئی قانونی اثر نہیں ہوگا لیکن اس سے ہم خیال سینیٹروں کو صدر بش کی پالیسی کی مخالفت جتانے کا موقع مل جائے گا ورنہ دیگر صورتحال میں اس طرح کی ان کی مخالفت امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھی جائے گی۔
نامہ نگار جیمز کومراسامی
سینیٹر بیدین نے کہا کہ عراق میں امریکی موجودگی صرف امریکیوں اور کانگریس کی حمایت سے جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’صدر کی عراق پالیسی کے لیے حمایت دستیاب نہیں ہے۔‘

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز کومراسامی کا کہنا ہے کہ اس قرارداد کا کوئی قانونی اثر نہیں ہوگا لیکن اس سے ہم خیال سینیٹروں کو صدر بش کی پالیسی کی مخالفت جتانے کا موقع مل جائے گا ورنہ دیگر صورتحال میں اس طرح کی ان کی مخالفت امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھی جائے گی۔

سینیٹر کرسٹوفر ڈاڈ نے بھی ایک بِل پیش کی ہے جس میں عراق میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری قرار دینے کی بات کی گئی ہے۔ جبکہ ایوان نمائندگان میں تین ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ایک بِل پیش کی ہے جس کے تحت امریکی فوجیوں کو عراق سے چھ ماہ کے اندر واپس بلانے کی بات کی گئی ہے۔

ادھر صدر کے عہدے کی ممکنہ امیدوار ہلری کلِنٹن نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد محدود کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوجی بھیجنے کی ضرورت ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ کانگریس کے کچھ کرنے کے لیے باقی نہیں ہے اور مزید فوجی بھیجنے کے منصوبے پر عمل کیا جائے گا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق امریکی کانگریس نے گزشتہ ماہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ہی امریکی فوج کے لیے فنڈز کی منظوری دیدی تھی۔

بساطامریکہ، صدام، عراق
بساطِ سیاست: خبروں، تجزیوں کا مجموعہ
عراقی وزیر اعظمعہدے سے تنگ
عراقی وزیر اعظم نوکری سے نہ خوش
زلمے خلیلزادزلمے خلیل زاد
اقوام متحدہ میں نئے امریکی سفیر؟
امریکی فوجیعراق پالیسی اور ووٹر
کیا صدر بُش مزید امریکی فوجی بھیجیں گے؟
صدام حسینشیعہ، سنی اختلافات
صدام کی موت سے شیعہ، سنی تفرقہ بڑھ گیا ہے
صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
عراق میں امریکی فوجیعراق میں نیامنصوبہ
صدر بش کی نئی پالیسی پرعالمی رد عمل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد