BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 January, 2007, 22:22 GMT 03:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر بش کی عراق پالیسی مسترد
گزشہ رات صدر بش نے عراق پالیسی پر حمایت کی اپیل کی تھی
امریکی سینیٹ کی خِارجہ امور سے متعلق کمیٹی نے صدر بش کے عراق میں بیس ہزار سے زیادہ امریکی فوجی بھیجنے کے فیصلے کو ایک قرار داد منظور کر کے مسترد کر دیا ہے۔

خارجہ امور کی کمیٹی کے طرف سے مننطور کردہ قرارداد جس پر عمل درآمد کرنا صدر کے لیئے ضروری نہیں ہے،اب آئندہ ہفتے سینیٹ کے اجلاس میں رائے شماری کے لیئے پیش کی جائے گی۔


ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے کمیٹی کے سربراہ جوزف بڈن کا کہنا ہے کہ یہ قرار داد صدر بش کو شرمندہ کرنے کے لیئے نہیں بلکہ انہیں ایک بڑی غلطی سے بچانے کے لیئے پیش کی گئی ہے۔

سینیٹ میں اب ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت ہے اور گزشتہ رات سٹیٹ آف یونین خطاب میں صدر بش نے کانگریس کے دونوں ایوانوں سے اپیل کی تھی کہ عراق پر ان کی نئی حکمتِ عملی کو کامیابی کے لیے موقع فراہم کیا جائے۔

اگرچہ سینیٹ کمیٹی کی قرارداد پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے صدر بش اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرلیں۔

اس قرارداد میں صدر بش کے اکیس ہزار پانچ سو اضافی فوجی عراق بیھجنے کے فیصلے کی مخالفت کی گئی ہے۔ ان میں سے پہلے ہی تین ہزار دو سو فوجی عراق پہنچ چکے ہیں۔

اس قرارداد کو پیش کرنے کی تجویز اس ماہ کے اوائل میں تین ممتاز سینیٹرز نے دی تھی اور یہ کہا تھا کہ صدر بش کا منصوبہ امریکی مفاد میں نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ عراق کی سکیورٹی جلد ہی عراقیوں کے حوالے کی جائے۔ یہ تین رہنماجوزف بیڈن (ڈیموکریٹ) ، کارل لیون (ڈیموکریٹ) اور چک ہیگل (ریپبلیکن) ہیں اور عراق کی جنگ کے پرانے ناقد ہیں۔

اس قرارداد کے واحد ریپبلیکن حامی سینیٹر چک ہیگل کا کہنا تھا: ’بجائے اس کے کہ ہم بیس ہزار سے زائد فوجی عراق بھیج دیں، بہتر ہے پہلے ہمیں پکا پتہ ہو کہ ہم کر کیا رہے ہیں‘۔

اس قرارداد پر بحث سے قبل نائب صدر ڈِک چینی نے صدر بش کی پالیسی پر اعتراضات یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیئے تھے: ’اس طرح ہم نہیں رکیں گے اور یہ کہ ایسا کرنا خود فوج کے نقطۂ نگاہ سے برا ہوگا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد