BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 February, 2007, 13:15 GMT 18:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد میں فوجی آپریشن اور دھماکے
زخمی عراقی شہری
عراقی وزارتِ داخلہ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں بغداد میں ایک ہزار افراد مارے جا چکے ہیں
عراقی دارالحکومت بغداد میں پیر کو ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں کم از کم ستائیس افراد ہلاک اور نوے سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب عراقی اور امریکی افواج بغداد میں مزاحمت کاروں کے خلاف ایک بڑا مشترکہ فوجی آپریشن شروع کرنے والی ہیں۔

پہلا خود کش بم دھماکہ بغداد کے جنوب مغربی علاقے السعیدیہ کے ایک پٹرول سٹیشن پر اس وقت ہوا جب وہاں پر پٹرول خریدنے والوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ خودکش حملہ آور گندم سے بھرے ہوئے ٹرک میں پٹرول سٹیشن میں داخل ہوا جس کے بعد ٹرک زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ دھماکے میں دس افراد مارے گئے اور کم از کم ساٹھ زخمی ہوئے۔

وسطی علاقے ناحدہ میں ہونے والے کار بم حملے میں بھی دس افراد ہلاک ہوئے اور پندرہ زخمی ہوئے۔ مشرق میں السینا نامی علاقے میں بچوں کے ایک ہسپتال کے نزدیک کار بم حملے میں چار افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے۔

امریکی فوجی
عراقی اور امریکی فوجی ہزاروں کی تعداد میں بغداد کی گلیوں میں موجود ہیں

عراقی دارالحکومت کے وسطی علاقے باب الشیخ میں مارٹر گولہ گرنے سے ایک شہری ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔ المستنصریہ یونیورسٹی کے نزدیک بھی سڑک کے کنارے رکھا گیا ایک بم پھٹنے سے ایک راہگیر ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

العمل نامی علاقے سے مزاحمت کاروں اور مقامی رہائشیوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی اطلاع ملی ہے جس کی زد میں آنے سے ایک پچیس سالہ خاتون ہلاک ہو گئی ہیں۔

عراق کے دیگر علاقوں سموا، موصل، کرکک اور بصرہ سے بھی پرتشدد کارروائیوں اور پولیس اور سرکاری عہدیدراوں کے قافلوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ بصرہ میں برطانوی فوج کا ایک قافلہ سڑک کے کنارے رکھے گئے بم کی زد میں آ گیا جس کے پھٹنے سے ایک برطانوی فوجی مارا گیا۔

بغداد میں عراقی فوج کا ٹینک
آپریشن کے دوران مزاحمت کاروں اور غیر قانونی اسلحے کا سراغ لگایا جائے گا

عراقی دارالحکومت بغداد میں مزاحمتی کارروائیوں پر قابو پانے کے لیے امریکی اور عراقی افواج کا مشترکہ آپریشن پیر سے شروع ہونے والا ہے۔ یہ آپریشن بغداد میں بنائے گئے ایک نئے کمانڈ سینٹر کی زیرِ نگرانی کیا جائے گا۔

عراقی فوج کے ایک شیعہ جنرل ابود گمبر اس کمانڈ سینٹر کی کمان سنبھال رہے ہیں۔ آپریشن میں حصہ لینے کے لیے امریکی اور عراقی فوجی ہزاروں کی تعداد میں بغداد کی گلیوں میں جمع ہیں۔ آپریشن کے دوران وہ مزاحمت کاروں اور غیر قانونی ہتھیاروں کا کھوج لگائیں گے۔

دریں اثناء عراق کے سنی نائب صدر طارق ہاشمی نے امریکی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ عراق میں مزید فوجی بھیجنے کے اپنے منصوبے پر فوری عمل درآمد کرے تاکہ وہاں پر جاری تشدد پر قابو پایا جا سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد