بغداد میں فوج کا مشترکہ ہیڈکواٹر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی حکام بغداد میں سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے عراقی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک مشترکہ کمانڈ سینٹر یا ہیڈ کواٹر بنا رہے ہیں۔ یہ ہیڈکواٹر پیر سے کام شروع کر دے گا اور اس کی قیادت ایک عراقی جنرل کریں گے۔ یہ مشترکہ ہیڈکواٹر بنانے کا مقصد مزاحمت کاروں اور جرائم پیشہ عناصر کو ختم کرنا ہے جو بم دھماکوں، اغواء اور فائرنگ کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ عراقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ بغداد کی سیکورٹی کے نے پلان کے بارے میں رہنما اصول وضع کرے گی۔ بغداد میں سنی اکثریت والے علاقے اعظمیہ اور شہر میں دیگر جگہوں پر مارٹر بم حملوں اور دھماکوں میں چالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکی فوجی ترجمان مجیر جنرل ولیم کلیڈ ویل نے صبر اور تحمل کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کے نئے سکیورٹی پلان سے تشدد کے واقعات فوری طور پر بند نہیں ہوں گے۔ دریں اثناء امریکہ فوج نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں عراق میں اس کے تباہ ہونے والے چار ہیلی کاپٹروں کو زمین سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ عراق میں ایک امریکی ترجمان کے مطابق ان ہیلی کاپٹروں کے نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکی فوج اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کر رہی ہے۔ جنوری کی بیس تاریخ سے تین جنگی اور ایک مسافر بردار ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جس میں بیس امریکی مارے گئے ہیں۔ مئی دو ہزار تین سے عراق میں پچاس امریکی ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے ہیں جن میں سے ادھے مزاحمت کاروں کا نشانہ بنے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے امریکی فوج کے لیے نئے سوال کھڑے کردیئے ہیں کہ کیا عراق میں مزاحمت کارروں نے جدید ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں اور کیا امریکی فوجی حکمت عمل میں تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں ’امام مہدی‘ کے دو سو پیروکار ہلاک30 January, 2007 | آس پاس ’امیدیں غیر حقیقت پسندانہ‘31 January, 2007 | آس پاس عراق تعمیراتی فنڈز میں ’بدعنوانیاں‘31 January, 2007 | آس پاس عراق: بم دھماکے میں 135 ہلاکتیں03 February, 2007 | آس پاس ’امریکی ہیلی کاپٹر تباہ کیےگئے تھے‘04 February, 2007 | آس پاس بغداد حملوں کا الزام شام پر04 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||