BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ
پناہ گزین
پانچ سال بعد پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے
عالمی سطح پر پناہ گزینوں کی تعداد میں پانچ سال بعد پہلی مرتبہ اضافہ ہوا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اس کی بنیادی وجہ عراق کی پر تشدد صورتحال ہے۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس چودہ فیصد اضافہ کے ساتھ پناہ گزینوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی۔

ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اندروں ملک بے گھر ہونے والوں کی تعداد بھی ایک کروڑ تیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے جو خود ایک ریکارڈ ہے۔

پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافے کے لیے عراق کی صورتحال کے علاوہ لبنان، مشرقی تیمور، سوڈان اور سری لنکا میں جاری شورش کو ذمہ دار بتایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعداد و شمار میں وہ چالیس لاکھ سے زیادہ فلسطینی شامل نہیں ہیں جو اسرائیل کے ساتھ جاری تنازعہ کی وجہ سے بے گھر ہوگئے تھے۔

عراقی پناہ گزین
تعداد میں اضافے کی اہم ترین وجہ عراق کی صورتحال ہے

سن دو ہزر چھ کی رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار دو کے بعد پہلی مرتبہ پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی کا رحجان بدلا ہے۔

تخمینوں کے مطابق تقریباً پندرہ لاکھ عراقی پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان میں سے زیادہ تر شام اور اردن میں مقیم ہیں۔

قومیت کے حساب سے پناہ گزینوں کی یہ دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ سر فہرست افغان ہیں جو اکیس لاکھ کی تعداد میں بیرون ملک پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سوڈان، صومالیہ، برونڈی اور کونگو کے شہری بھی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین اینٹونیو گوٹریز کے مطابق پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ان کے ادارے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

’جیسے جیسے دنیا میں عدم رواداری اور تشدد کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بڑھے گی، ہمیں بدلتے ہوئے تقاضوں اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔‘

 جیسے جیسے دنیا میں عدم رواداری اور تشدد کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بڑھے گی، ہمیں بدلتے ہوئے تقاضوں اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا
ہائی کمشنر برائے پناہ گزین

لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں تک دارفور جیسے انسانی بحرانوں کا سامنا کرنے کا سوال ہے، ان کے ادارے کا کردار انتہائی محدود اور ناکافی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد بھی بڑھ کر دو کروڑ پینتالیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے جو اندرون ملک ہی بے گھر ہوئے ہیں لیکن پناہ گزینوں کے زمرے میں نہیں آتے۔

صرف عراق کے اندر ہی تئیس لاکھ افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ہجرت پر مجبور
ہر ماہ پچاس ہزار عراقی ہجرت پر مجبور
سائیں کیا خاطر کریں
فوجی آپریشن کے بعد در بدر ہونے والے بلوچ
افغان پناہ گزینمہاجرین کا انداج
سست روی کا شکار
افغان مہاجرین ’افغان ہونا جرم ہے؟‘
’ایک گھنٹے کے نوٹس پر دکانیں گرا دی گئیں‘
افغان مہاجرین’یہ سراسر ظلم ہے‘
ایران سے نکالے جانے والے افغانوں کی مشکلات
اسی بارے میں
’یہ سراسر ظلم ہے‘
09 June, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد