’ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم افغان ہیں؟‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کی جانب سے پشاور میں افغان مہاجرین کے لیے قائم ’کچہ گڑھی کیمپ‘ کو تیس جون تک بند کرانے کے فیصلے کے بعد وہاں پر مقیم مہاجرین کو نکالےجانے سے متعلق حکومتی اقدامات کے اٹھائے جانے کا آغاز ہوچکا ہے۔ کیمپ میں داخل ہونے سے قبل ہی وہاں پر درجنوں دکانوں کے ڈھائے جانے کے منظر سے حکومتی اقدامات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چھپن ہزار کی آبادی پر مشتمل اس کیمپ کے تمام داخلی راستوں پر نیم فوجی ملیشیاء کے مسلح جوان تعینات ہیں جو افغان مہاجرین کو پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرف چوری چھپے منتقلی سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیمپ میں رہائش پزیر افغان مہاجرین کے چہروں پر خوف اور بے یقینی کی کیفیت واضح دکھائی دیتی ہے۔ کیمپ میں مقیم افغان مہاجرین حکومت کے اس منصوبے سے متفق نظر نہیں آئے کہ وہ یاتو افغانستان منتقل ہوجائیں یا پھر صوبہ سرحد کے دور دراز علاقوں چترال، دیر اور تیمر گرہ میں قائم متبادل کیمپوں میں آباد ہوجائیں۔
محمد نعیم کا کہنا تھا:’ ہم افغانستان نہیں جاسکتے کیونکہ وہاں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ ہماری زمینوں پر جنگی کمانڈروں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ وہاں پر تعلیم اور صحت کی سہولیات ناپید ہیں۔ سہولیات کی عدم دستیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے رشتہ دار صرف بخار کی علاج کے لیے یہاں پشاور آتے ہیں‘۔ چند روز قبل کیمپ میں واقع افغان مہاجرین کی تقریباً ڈیڑھ سو دکانیں بلڈوزر کے ذریعے گرائی گئی تھیں۔ان میں سے بعض دکاندار ملبے پر بیٹھے کیمپ کی صورتحال پر بات چیت میں مصروف تھے۔ یہ بھانپتے ہوئے کہ میں ایک صحافی ہوں وہاں پرموجود محمد زاہد نے برہم ہوکر کہا: ’ تم صحافی لوگ بھی تباہی کے بعد ہی موقع پر پہنچ جاتے ہو۔یہ دیکھو ساری دکانیں گرادی گئی ہیں اور ہم بے کار بیٹھے ہیں۔ میرے پینتیس ہزار روپے کا نقصان ہوا ہے اور حکومت نے صرف ایک گھنٹے پہلے ہی ہمیں دکانوں کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ہم سامان نکال ہی رہے تھے کہ بلڈوزر پہنچ گئے اور ہماری دکانیں گرادی گئیں‘۔
دکانداروں سے بات چیت کے دوران ہی درجنوں لوگ میرے گرد جمع ہوچکے تھے ایک شخص محمد نور نے محمد زاہد کی بات کاٹتے ہوئے کہا:’ ہم مہاجر بہت سی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرنے کے قابل ہو ہی گئے تھے کہ ہماری برسوں کی محنت کو ایک گھنٹے میں غارت کردیا گیا۔ہم دن میں سو ڈیڑھ سو کما لیتے تھے جس سےگھر کاچولہا جلتا تھا لیکن اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ کچھ دنوں سے چولہا بجھ ہی گیا ہے جبکہ میرا ایک بیٹا بیمار ہے لیکن اس کےعلاج کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں‘۔ کیمپ میں قائم تمام سکول نیم فوجی ملیشیاء کے کنٹرول میں ہیں جبکہ طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر یا تو بے مقصد پھر تے ہوئے نظر آئے یا پھر والدین کا ہاتھ بٹانے میں مصروف تھے۔
پندرہ سالہ فیض محمد ایک طالب علم ہیں، ان کا کہنا تھا کہ’ ایک سال سے ہمارے سکول بند پڑے ہیں اور جو سکول لوگ اپنے ہی خرچے پر چلارہے تھے وہ بھی دو ماہ قبل سکیورٹی فورسز نے لے لیےاور انہوں نےوہاں پر رہائش اختیار کر لی۔ کیمپ کے تمام بچے علم کی روشنی سے محروم ہوگئے ہیں۔ کیا ہمارا قصور صرف یہی ہے کہ ہم افغان ہیں‘۔ بظاہر ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ افغان مہاجرین اور حکومت پاکستان کے درمیان تقریباً سینتیس سال سے میزبانی اور مہمان نوازی کا قائم رشتہ ٹوٹ رہا ہے کیونکہ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صورتحال کی بہتری کے بعد تقریباً چوبیس لاکھ افغان مہاجرین کو مزید پناہ دینا اب ممکن نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں افغان مہاجر: اندراج کے عمل میں توسیع17 January, 2007 | پاکستان افغان مہاجرین کی رجسٹریشن جاری03 February, 2007 | پاکستان تین برس میں مہاجرین کی واپسی07 February, 2007 | پاکستان افغان مہاجرین ، واپسی کا آخری دن15 April, 2007 | پاکستان مہاجرین کی منتقلی کے فیصلے پر ردِعمل29 May, 2007 | پاکستان مہاجر:پاکستان میں رچ بس جانا مقدر 21 July, 2006 | پاکستان پاکستان: تمام افغان مہاجر کیمپ بند06 August, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||