پاکستان: تمام افغان مہاجر کیمپ بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین(یو این ایچ سی آر) کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغان سرحد کے قریب قبائلی علاقوں میں واقع تمام مہاجر کیمپ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق باجوڑ اور کرم کے علاقوں میں موجود مہاجر کیمپ اس ماہ کے آخر تک بند کر دیے جائیں گے۔ یہ کیمپ 1979 میں افغا نستان پر روس کی چڑھائی کے بعد مہاجرین کی آمد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیےقائم کیے گئے تھے۔ ’یو این ایچ سی آر‘ کے ایک بیان کے مطابق اس فیصلے سے ان کیمپوں میں رہنے والے ایک لاکھ سے زائد افغان مہاجرین متاثر ہوں گے۔ ان مہاجرین کوافغانستان واپس جانے یا پاکستان میں کسی دوسرے مقام پر منتقلی کی پیشکش کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے پاکستانی حکومت کے کیمپ بند کرنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ سرحدی علاقوں میں حکومتی اداروں اور القاعدہ سے منسلک عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے ان کیمپوں میں رہنے والے مہاجرین کی مدد کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ پاک افغان سرحد پر واقع کچھ مہاجر کیمپوں کو پہلے ہی بند کیا جا چکا ہے۔ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین آئے تھے جن میں سے بیس لاکھ کے قریب حالیہ برسوں میں واپس جا چکے ہیں۔ قبل ازیں حکومتِ پاکستان نے کہا تھا کہ اس نے سرحدی علاقوں کے علاوہ اسلام آباد کے گرد و نواح میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کو بھی سکیورٹی خدشات کی بناء پر دوسری جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||