BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان: رجسٹریشن کا آخری دن

افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن
رجسٹریشن کا کام جمعرات کی شام ختم ہو جائے گا
پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کا آخری دن ہے اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اب تک کوئی ساڑھے چوبیس لاکھ میں سے ساڑھے اکیس لاکھ پناہ گزینوں کی رجسٹریشن ہو چکی ہے جب کہ مزید رجسٹریشن کا کام جمعرات کی شام تک جاری رہے گا۔

افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کایہ عمل اکتیس دسمبر تک مکمل کیا جانا تھا لیکن اس میں تین مرتبہ توسیع کی گئی تھی تاکہ پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی صحیح تعداد معلوم کی جا سکے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد امداد کا اندازہ لگانا ہے نہ کہ افغان پناہ گزینوں کو واپس اپنے وطن بھیجنا ہے۔

ابتدا میں یہ عمل سست روی کا شکار رہا ہے لیکن اب کوئٹہ میں موجود یو این ایچ سی آر کی ترجمان دنیا اسلم خان کا کہنا ہے کہ اب افغان پناہ گزین بھر پور شرکت کر رہے ہیں اور ایک دن میں چھ سے سات ہزار افراد نے بھی رجسٹریشن کرائی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق تیرہ فروری تک پاکستان بھر میں اکیس لاکھ سے زیادہ افراد کی رجسٹریشن کر لی گئی ہے جب کہ بلوچستان میں چار لاکھ سینتالیس ہزار اور صوبہ سرحد میں تیرہ لاکھ چھپن ہزار سے زائد پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔

کیمپ بند کیے جا رہے ہیں
 پاکستان میں پناہ گزینوں کے کیمپ بھی بند کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق بلوچستان کے دو بڑے اور کچھ چھوٹے کیمپ ایک ماہ کے اندر بند کر دیے جائیں گے

پاکستان کے دوسرے حصوں، اسلام آباد پنجاب سندھ اور آزاد جموں کشمیر میں بھی رجسٹریشن کاعمل جاری ہے۔

پاکستان میں پناہ گزینوں کے کیمپ بھی بند کیے جا رہے ہیں اور حکام کے مطابق بلوچستان کے دو بڑے اور کچھ چھوٹے کیمپ ایک ماہ کے اندر بند کر دیے جائیں گے۔

ان کیمپوں کے بند کرنے کی وجوہات میں ایک تو امداد کی کمی ہے اور دوسرا ایسے خدشات ہیں کہ ان کیمپوں میں ایسے عناصر موجود ہو سکتے ہیں جو سرحد پار افغانستان یا پاکستان کے اندر مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

بلوچستان پولیس کے سربراہ طارق مسعود کھوسہ نے چارج سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ غیر قانونی طور پر مقیم پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے اور جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں انھیں واپس بھیجا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تین برس میں مہاجرین کی واپسی
07 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد