پاک افغان سرحد، باڑ کی مخالفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے قبائلی معتبرین نے پیر کے روز ایک اجلاس میں کہا ہے کہ جب تک اسلام آباد اور کابل سرحد کے حوالے سے کوئی بہتر اور متفقہ فیصلہ نہیں کر لیتے تب تک سرحد پر آمدو رفت کا سلسلہ پہلے کی طرح بحال رہے گا جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین نے ایک جلسہ عام میں سرحد پر باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے منصوبے کی سخت مخالفت کی ہے۔ پاکستان کے شہر چمن اور بلوچستان کے علاقہ سپین بولدک میں آباد قبائل کے رہنماؤں نےپیر کے روز سرحد پر آمدو رفت کے حوالے سے مذاکرات کیے ہیں۔ اس اجلاس میں موجود چمن کے ایک شہری عبدالرزاق نے بتایا کہ قبائلی رہنماؤں نے طویل بات چیت کے بعد کہا ہے کہ اسلام آباد اور کابل اس بارے میں کوئی مشترکہ فیصلہ کریں تاکہ دونوں جانب کے لوگوں کو پاک افغان سرحد عبور کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ پاکستان نے گزشتہ ہفتے سرحد پر بائیو میٹرک نظام نصب کیا ہے جس سے سرحد عبور کرنے والے کی انگلیوں کے نشان سے شناخت کی جاتی ہے۔ لیکن سپین بولدک کے شہریوں نے اس کی مخالفت کی اور اس بارے میں شدید احتجاج کیا تھا۔ اس وقت سرحد پر آمدو رفت کے لیے پرانا طریقہ کار رائج ہے۔ اس کے علاوہ آج چمن میں عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین نے ایک جلسہ عام میں پاکستان حکومت کے سرحد پر باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں نصب کرنے کے منصوبے کی سخت مخالفت کی ہے۔ جماعت کے جائنٹ سیکرyٹری حاجی جیلانی خان نے کہا ہے کہ سرحد کےدونوں جانب آباد پشتون ایک ہی ہیں۔ یاد رہے گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر انتظام منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں بھی تمام حزب اختلاف کی جماعتوں نے باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے منصوبے کو عوام دشمن منصوبہ قرار دیا تھا۔ | اسی بارے میں سرحد پار کرنے کا پرانا نظام بحال12 January, 2007 | پاکستان بارودی سرنگیں: ’فیصلہ بدلا جائے‘ 09 January, 2007 | پاکستان ’باڑ لگانے کا فیصلہ مضحکہ خیز‘08 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||