سرحد پار کرنے کا پرانا نظام بحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک افغان سرحد پر حال ہی میں نصب کیے گئے ’بائیو میٹرک‘ نظام کو قبائلیوں کے احتجاج کے بعد کچھ عرصہ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ نظام بلوچستان کے شہر چمن میں سرحد پر آمدورفت پر کڑی نگرانی کے لیے نصب کیا گیا ہے۔ قلعہ عبداللہ کے ضلع ناظم حاجی آدم خان اور افغانستان کے شہر سپین بولدک میں تعینات کمانڈر رزاق کے مابین جمعہ کی صبح مذاکرات کے بعد پاک افغان سرحد کھول دی گئی ہے۔ دونوں اطراف کے قبائلیوں نے پاکستان کی جانب سے نصب کیے گئے نئے کمپیوٹرائزڈ نظام یا بائیو میٹرک سسٹم کے نصب کیے جانے پر شدید احتجاج کیا تھا، جس پر سرحد کو بند کر دیا گیا تھا۔ پاک افغان سرحد کے دونوں جانب آباد لوگوں کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں اور ان کے کاروبار مشترک ہیں۔ اکثر لوگ ایک دوسرے کے ملک روزانہ آتے جاتے ہیں۔ حاجی آدم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پرانے کارڈ یا تذکرہ کے نظام اور موجودہ نظام میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، اس نظام کو افغانستان کی جانب بھی نصب کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کو یہ نظام نصب کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام سے ملاقات میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ سفارتی سطح پر بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران نیا نظام معطل کرکے پرانے نظام یعنی کارڈ یا تذکرہ کے ذریعے سرحد پر لوگوں کی آمدو رفت شروع ہو گئی ہے۔ افغانستان میں مقامی سطح پر جاری ہونے والے اجازت نامہ کو تذکرہ کہا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں ’باڑ لگانے کا فیصلہ مضحکہ خیز‘08 January, 2007 | پاکستان پاک افغان سرحد: باڑ اور بارودی سرنگیں26 December, 2006 | پاکستان افغان سرحد پر دس افراد گرفتار19 December, 2006 | پاکستان پاک افغان سرحد کھل گئی03 December, 2005 | پاکستان رجسٹریشن: ’31 دسمبر تک مکمل‘ 07 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||