BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 January, 2007, 15:49 GMT 20:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چمن: افغانستان کے لیے خصوصی کارڈ

چمن-سپن بلدک چیک پوائنٹ سرحد پار تجارت کا اہم راستہ ہے
بلوچستان کے سرحدی شہر چمن اور افغانستان کے سپن بلدک کے درمیان لوگوں اور گاڑیوں پر کڑی نظر رکھنے کے لیے پاکستان نے دس جنوری سے کمپیوٹرائزڈ سسٹم رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس مقصد کے لیے چمن کے ان لوگوں اور تاجروں کو جو روزانہ سپن بلدک آتے جاتے ہیں 6000 سے زائد خصوصی کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ جاری کردیے گئے ہیں۔

کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے بتایا ہے کہ اس عمل سے ان افغان باشندوں کو پاکستان آمد میں مشکلات کا سامنا ہوگا جو پہلے ہر روز کام کے سلسلے میں چمن آیا جایا کرتے تھے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یہ قدم مشکوک طالبان کا راستہ روکنے کے لیے اٹھایا ہے۔ لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے سرحد پر رہنے والے قبائل کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔

کوئٹہ میں ایک غیرسرکاری تنظیم کے لیے کام کرنے والے محمد نسیم کا کہنا تھا: ’دونوں ملکوں کے لوگوں کو جو یہاں پر آباد ان پر اس کے کافی برے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہاں بڑے عرصے سے دونوں جانب کے لوگوں کی رشتہ داریاں ہیں۔‘

 اگر دہشت گردی کو روکنا ہے تو صرف سرحد پر کمپیوٹر سیسٹم نصب کرنا، باڑ لگانا، یہ بالکل غلط بات ہے۔ اگر واقعی پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ کوئی دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ان لوگوں کی تلاش کی جائے جو دہشت گردی میں ملوث ہیں یا جو افغانستان میں جاکر خودکش حملے کرتے ہیں۔
تاجر محمد عیسیٰ
محمد عیسیٰ نے، جو کہ ایک تاجر ہیں، اپنا ردعمل یوں ظاہر کیا: ’اگر بات یہ ہے کہ دہشت گردی کو روکنا ہے تو صرف سرحد پر کمپیوٹر سسٹم نصب کرنا، باڑ لگانا، یہ بالکل غلط بات ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’اگر واقعی پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ کوئی دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ان لوگوں کی تلاش کی جائے جو دہشت گردی میں ملوث ہیں یا جو افغانستان میں جاکر خودکش حملے کرتے ہیں۔‘

اسکول ٹیچر شاہ حسین کا خیال تھا کہ ایسے شناختی کارڈو دونوں حکومتیں بنائیں تبھی کامیابی ملے گی۔ ’یہ یکطرفہ جو کارڈ جاری کیے گئے ہیں اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ اس سے معاملات مزید پیچیدہ ہوجائیں گے۔

شاہ حسین کا کہنا تھا: ’حقیقت میں افغانستان کے ساتھ بارڈر اتنا طویل ہے کہ ایک مقام پر کمپیوٹر نصب کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، سوائے دکھاوے کے۔‘

سرحدی امور سے واقف ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو یہ اقدامات کرنے سے پہلے افغان حکومت کو اعتماد میں لینا چاہیے۔

واضح رہے کے افغان حکومت نے پاکستان کے اس منصوبے کی پہلے سے ہی مخالفت کی ہے جس کے تحت سرحد پر بارودی سرنگیں بچھانے اور خاردار تار لگائی جائیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد