BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی وزیر اعظم کابل میں
فائل فوٹو
وزیر اعظم کا یہ دورہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے وقت ہو رہا ہے (فائل فوٹو)
پاکسان کے وزیر اعظم شوکت عزیز جمعرات کو ایک روزہ دورے پر افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گئے۔

کابل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کابل میں وزیر اعظم کا استقبال صدر حامد کرزئی نے کیا۔

اس دورے میں پاکستان کے وزیر اعظم افغان صدر حامد کرزئی سے پاک افغان سرحد پر سکیورٹی میں اضافے کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے طریقہ کار پر بات کر رہے ہیں۔

پچھلے ایک سال سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان نے پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ وہ طالبان اور القاعدہ کے افراد کے خلاف ناکافی کارروائی کر رہا ہے اور یہ افراد سرحد پار ٹھکانوں میں مقیم تھے۔ پاکستان کی اس تجویز پر بھی افغان حکام نے تنقید کی تھی کہ وہ سرحد پر باڑ اور بارودی سرنگیں لگائے گا۔

راولپنڈی کے چکلالہائر بیس سے روانہ ہونے سے پہلے وزیر اعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ بارڈر سکیورٹی ہی صرف موضوع بحث نہیں رہے گی بلکہ’ہم اور بہت سے اور موضوعات پر بات کریں گے جیسے کہ تجارت، سرمایہ کاری اور افغان پناہ گزین۔‘

شوکت عزیز کے مطابق مذاکرات کا محور یہ ہوگا کہ ’اس پورے خطے کو کس طرح پُرامن اور خوشحال بنایا جا سکتا ہے۔‘

پاکستانی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ اور بین الصوبائی روابط کے وزیر سلیم سیف اللہ بھی اس دورے پر وزیر اعظم کے ساتھ گئے ہیں۔

اسی بارے میں
قصوری کابل کے دورے پر
07 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد