BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 January, 2007, 18:02 GMT 23:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارودی سرنگیں: ’فیصلہ بدلا جائے‘

پاک افغان سرحد
پاک افغان سرحد کے قریب باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کا اعلان کیا ہے
بارودی سرنگوں کے خلاف بین الاقوامی تنظیم آئی سی بی ایل نے پاکستان کے صدر اور وزارت خارجہ کو ایک خط بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ پاک افغان سرحد پر شدت پسندوں کی آمدورفت روکنے کے لیے بارودی سرنگیں بچھانے کے فیصلے پر نظرثانی کریں۔

یہ بات اٹلی کے دارالحکومت روم سے تنظیم کی ایڈوکیسی کوارڈینیٹر سمونا بلترامی نے بی بی سی کو ایک ٹیلیفونک انٹرویو کے دوران بتائی۔

ان کا کہنا تھا کہ خط اس ہفتے کے آخر تک پاکستانی حکام تک پہنچ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ’خط میں اس بات پر زور دیا جائے گا کہ حکومت پاکستان شدت پسندوں کی آمدو رفت روکنے کے لیے بارودی سرنگوں کے بجائے دیگر متبادل طریقے تلاش کرے‘۔

جب ان سے پوچھاگیا کہ دیگر متبادل راستے کون سے ہوسکتے ہیں تو سمونا بلترامی کا کہنا تھا: ’اگرچہ خط میں متبادل طریقوں کا کوئی ذکر نہیں ہوگا لیکن ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے طور پر ہمارے ساتھ فوجی ماہرین اوران ممالک کے تجربات موجود ہیں جنہوں نے بارودی سرنگوں کو بچھائے بغیر اپنی سرحدوں پر سکیورٹی کی صورتحال پر قابو پایا ہے لہذا ان معلومات کا مطالبہ پاکستان کے ساتھ کیا جا سکتا ہے‘۔

دستخط نہیں کیے
 پاکستان، ہندوستان اور امریکہ ان چالیس ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے بارودی سرنگوں کے خلاف معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں۔

سمونا بلترامی نے مزید بتایاکہ انھیں امید ہے کہ پاکستان کی حکومت سرحد پر سکیورٹی خدشات اور انسانی جانوں کے تحفظ کے درمیان ایک توازن قائم کرے گی کیونکہ تاریخ میں کبھی بھی بارودی سرنگوں سے فوجی اہداف حاصل نہیں ہوسکے بلکہ اس کا زیادہ نقصان عام لوگوں کو پہنچا ہے۔

آئی سی بی ایل کی کوششوں سے انیس سو ستانوے میں اوٹاوا کنونشن ہواتھا جس پر اب تک ایک سو پچاس ممالک نے دستخط کیے ہیں۔

پاکستان، ہندوستان اور امریکہ ان چالیس ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

معاہدے کے تحت رکن ملک پر پابندی ہے کہ وہ بارودی سرنگوں کا استعمال، پیداوار، ذخیرہ اندوزی اور درآمد یا برآمد نہیں کریں گے۔

یورپ کے زیادہ تر ممالک اوٹاوا کنونشن کے رکن ہیں اور مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو پاک افغان سرحد پر ناپسندیدہ عناصر کی آمدورفت روکنے کےلیے بارودی سرنگوں کو بچھانے کے فیصلے پر یورپ کی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

اسی بارے میں
افغان پاک تو تو میں میں
16 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد