افغان مہاجرین ، واپسی کا آخری دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن آج یعنی اتوار کو ختم ہورہی ہے۔ حکومت نے ڈیڑھ ماہ قبل ملک میں غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغانوں کو پندرہ اپریل تک رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس چلے جانے کی ڈیڈلاین دی تھی۔ حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ پندرہ اپریل کے بعد غیر رجسٹرڈ شدہ افغانوں کی ملک میں موجودگی کو غیرقانونی تصور کیا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران دو لاکھ غیر قانونی مہاجرین افغانستان واپس جا چکے ہیں۔ حکومتی ڈیڈ لائن کے بعد یو این ایچ سی آرنے غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں کی واپسی شروع کی اور لاجسٹک تعاون کے علاوہ فی شخص تینتیس ڈالر کی امداد بڑھاکر سو ڈالر کردی۔ پاکستان میں یو این ایچ سی آر کے ترجمان بابر بلوچ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اتوار کے بعد ان کا ادارہ غیر قانونی افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ ختم کردے گا اور ان کو کسی قسم کا مالی اور لاجسٹک تعاون نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق حکومت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ واپسی سے متعلق تاریخ میں کسی قسم کی توسیع نہیں ہوگی۔
بابر بلوچ کا یہ بھی کہنا تھا کہ غیرقانونی افغانوں کی واپسی کے دوران انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے مطابق ’ہر شخص کو سو ڈالر کی امداد دی جارہی تھی مگر رجسٹریشن کے لیے روزانہ تین سے چار ہزار وہ افغان مہاجرین بھی آتے رہے جو پچھلے سال مالی امداد حاصل کرنے کے بعد وطن واپس چلےگئے تھے۔ ہم روزانہ آئرس سکیننگ کی ریکارڈ کی روشنی میں ان مہاجرین کی نشاندہی کرتے رہے‘۔ حکومت پاکستان اور یو این ایچ سی آر نے مشترکہ طور پر گزشتہ سال پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے رجسٹریشن کا عمل شروع کیا تھا اور تقریباً بائیس لاکھ افغان مہاجرین کو تین سال تک ملک میں قانونی طور پر رہنے کے قانونی اسناد جاری کیے گئے تھے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد دو ہزار دو سے اب تک اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کی مدد سے پاکستان سے تین ملین افغان مہاجرین وطن واپس جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ حکومت نے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں چار افغان مہاجر کیمپ بند کرانے کااعلان کیا ہے جس میں سے دو کیمپ پندرہ جون اور دیگر دو کیمپ اکتیس اگست کو بند کر دیے جائیں گے اور ان کیمپوں کے پناہ گزینوں کو اقوام متحدہ کے بحالی پروگرام کے تحت واپس بھجوایا جائے گا۔ حکام نے کہا ہے کہ جو مہاجرین فوری واپس نہیں جاسکیں گے انہیں دوسرے کیمپوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔ صدرجنرل پرویز مشرف اور دیگر اعلیٰ حکام نے بارہا کہا ہے کہ ملک میں موجود افغان مہاجرین کی کیمپوں میں طالبان شدت پسندوں نے مبینہ طور پر پناہ لی ہے لہذا حکومت بعض کیمپوں کو بندکر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں افغان: رجسٹریشن کا آخری دن 15 February, 2007 | پاکستان ’افغانستان آپ کاگھرہے،خوش آمدید‘06 February, 2007 | پاکستان افغان مہاجر: اندراج کے عمل میں توسیع17 January, 2007 | پاکستان افغان مہاجرین کی رجسٹریشن جاری03 February, 2007 | پاکستان افغانوں کی پاکستان سے جانے کی شرط16 February, 2007 | پاکستان تین ماہ میں 150 افغان گرفتار09 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||