تین ماہ میں 150 افغان گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں گزشتہ تین ماہ کے دوران ڈیڑھ سو کے قریب افغان شہریوں کو فارن ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل آف پولیس طارق کھوسہ نے جمعہ کو کوئٹہ میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاہم گرفتار افغان شہریوں میں سے کوئی بھی رہنماء یا طالبان کمانڈر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کوئٹہ ویلی ویجل‘ کے نام سے جاری آپریشن کے دوران ان افغان شہریوں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے جو قانونی دستاویزات کے بغیر رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فروری کے مہینے میں بارہ افغان شہریوں کو فارن ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ آئی جی پولیس نے کہا کہ بلوچستان میں راکٹ باری اور بم دھماکوں کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ گزشتہ ماہ سینئر سول جج کی عدالت میں خودکش دھماکے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود کش حملہ آور کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ تا حال پولیس کو موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی قابل ذکر گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں ہونے والا خود کش حملہ ملک کے دیگر علاقوں مثلاً ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور اور اسلام آباد میں ہونے والے خود کش حملوں کے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے۔ کوئٹہ کی ایک عدالت میں ہونے والے خود کش حملے میں سینئر سول جج اور آٹھ وکیلوں سمیت سترہ افراد ہلاک اور چونتیس زخمی ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں افغانوں کی پاکستان سے جانے کی شرط16 February, 2007 | پاکستان ’افغانستان آپ کاگھرہے،خوش آمدید‘07 February, 2007 | پاکستان افغان مہاجرین کی رجسٹریشن جاری03 February, 2007 | پاکستان سرحد پار کرنے کا پرانا نظام بحال12 January, 2007 | پاکستان افغان سرحد پر دس افراد گرفتار19 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||