BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 March, 2007, 15:54 GMT 20:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تین ماہ میں 150 افغان گرفتار

افغان مہاجر
گرفتار افغان شہریوں میں سے کوئی بھی رہنماء یا طالبان کمانڈر نہیں ہے
بلوچستان میں گزشتہ تین ماہ کے دوران ڈیڑھ سو کے قریب افغان شہریوں کو فارن ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

بلوچستان کے انسپکٹر جنرل آف پولیس طارق کھوسہ نے جمعہ کو کوئٹہ میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاہم گرفتار افغان شہریوں میں سے کوئی بھی رہنماء یا طالبان کمانڈر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کوئٹہ ویلی ویجل‘ کے نام سے جاری آپریشن کے دوران ان افغان شہریوں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے جو قانونی دستاویزات کے بغیر رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فروری کے مہینے میں بارہ افغان شہریوں کو فارن ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

آئی جی پولیس نے کہا کہ بلوچستان میں راکٹ باری اور بم دھماکوں کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ گزشتہ ماہ سینئر سول جج کی عدالت میں خودکش دھماکے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خود کش حملہ آور کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ تا حال پولیس کو موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی قابل ذکر گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں ہونے والا خود کش حملہ ملک کے دیگر علاقوں مثلاً ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور اور اسلام آباد میں ہونے والے خود کش حملوں کے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے۔

کوئٹہ کی ایک عدالت میں ہونے والے خود کش حملے میں سینئر سول جج اور آٹھ وکیلوں سمیت سترہ افراد ہلاک اور چونتیس زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد