BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 February, 2007, 11:42 GMT 16:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانوں کی پاکستان سے جانے کی شرط

افغان پناہ گزین
پاکستان مزید افغان پناہ گزینوں کا بوجھ نہیں برداشت کرسکتا: ضلعی رابطہ افسر دالبندین
پاکستان کے صوبۂ سرحد میں جلوزئی اور کچاگھڑی افغان کیمپوں اور بلوچستان کےگردی جنگل اورجنگل پیرعلی زئی کیمپوں میں رہنےوالے تارکین وطن نے کہا ہے کہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوگا اس وقت تک وہ پاکستان سےنہیں جائیں گے۔

کوئٹہ سے 400 کلومیٹر دور مغرب میں واقع گردی جنگل کیمپ 1979 میں قائم ہوا تھا۔ اس کیمپ میں یواین ایچ سی آر کے مطابق 45 ہزار سے زیادہ افغان رہ رہے ہیں۔

اس کیمپ میں نہ صرف بعض لوگوں کے پاس بڑی اورلگژری گاڑیان نظر آتی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ’غیرقانونی طور پرافغانستان سے لائی گئی ہیں بلکہ اس کے علاوہ بعض کچی دکانوں پر نوجوان سیٹلائٹ فون پربات کرنے میں مصروف بھی دیکھے گئے۔

کیمپ میں موجود افغان پناہ گزینوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے جنوبی اور مشرقی صوبوں میں طالبان اورنیٹو کی افواج کے درمیان لڑائی میں روزانہ عام لوگ مارے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے لیے وہاں روزگاراور رہائش کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

اس کیمپ کے حاجی عبدالقیوم اسحاق زئی نے بتایا کہ افغان مہاجرین اپنے ملک جانے کے لیے تیار ہیں مگر موجودہ صورتحال میں کسی صورت میں نہیں جائیں گے۔ انہوں نے حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ گردی جنگل کیمپ کے مہاجرین کو بھی 3 سال کی مہلت دی جائے جو پاکستان میں دوسرے کیمپوں کےمہاجرین کو پہلے ہی دی جا چکی ہے۔

حاجی عبدالقیوم اسحاق زئی کے مطابق جولائی 2005 کے بعد سے اب تک یواین ایچ سی آر یا کسی اور غیرملکی ادارے نے کیمپ میں کوئی مدد نہیں کی یہاں تک کہ بچوں کے سکول اور صحت کےمراکز بھی بند کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے کیمپ میں رہنے والے زیادہ تر لوگ پاکستان کے مختلف شہروں میں محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔

کیمپ

سخت کارروائی
 صدرپرویزمشرف اوروزیراعظم شوکت عزیزکی ذاتی دلچسپی ہے کہ بلوچستان کے ان دونوں کیمپوں کو اس سال جوں سے اگست کے درمیان مکمل طور پر خالی کرا کر زمین حکومت بلوچستان کے حوالے کردی جائے اور رجسٹرڈ افغانوں کوافغانستان واپس بھیج دیا جائے اور اگر کسی کووہاں کوئی مسئلہ ہوگا توانہیں کچھ عرصے کے لیے محمد خیل کیمپ میں رکھا جائے گا جبکہ غیررجسٹرڈ پناہ گزینوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔
کےقبائلی رہنما حاجی قاسم نے کہا کہ ان کے کیمپ میں صرف وہ طالبان موجود ہیں جو یہاں پڑھنے کے لیے افغانستان سے آئے ہوئے ہیں۔ جہاں تک جنگجو طالبان کا سوال ہے تویہ طالبان افغانستان کے اندرموجود ہیں جن کا اب بھی افغانستان کے اکثرعلاقوں پرکنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس افغان حکومت اپنی ناکامیوں کوچھپانے کے لیے اس طرح کے الزامات لگا رہی ہے۔

بقول ان کے حکومت پاکستان نے پہلے سے ہی اس کیمپ کے اردگرد چیک پوسٹیں قائم کر کے نہ صرف اسے چاروں اطراف سے بند کر رکھا ہے بلکہ اب تو سرحد پر پاکستان کی جانب سے سخت سیکورٹی کے باعث اس بات کا امکان ہی نہیں رہا کہ کوہی شخص سرحد کراس کر کے با آسانی افغانستان میں داخل ہو سکے۔

ایک سوال کےجواب میں حاجی قاری نے کہا کہ افغان صدر حامد کرزئی کے خاندان کے بہت سے لوگ ابھی تک پاکستان میں مقیم ہیں جس کی ایک بڑی
وجہ افغانستان میں امن کا نہ ھونا ہے۔

دوسری جانب بعض پاکستانی اعلی حکام کی جانب سے گردی جنگل کیمپ بند کرنے کی ایک بڑی وجہ ملک میں اسلحہ اورمنشیات میں اس کیمپ کا مبینہ کردار بھی بتایاجاتاہے مگر گردی جنگل کمیپ شورای کے امیر حاجی حیات خان محمدزئی نےکہا کہ اس کیمپ کے لوگ اسلحہ اور منشیات کی کسی کاروبار میں ملوث نہیں ہیں بلکہ کیمپ کے لوگوں نے 10 سال قبل حکومت پاکستان کو کہا تھا کہ وہ کیمپ کی تلاشی لے۔ اگر کوئی اس کاروبار میں ملوث پایا گیا تو اس کی سزا کے لیے‎ ہم سب تیار ہیں۔

افغان پناہ گزین منشیات اور اسلحے کے کاروبار سے انکار کرتے ہیں
حکومت پاکستان اور بلوچستان نے دالبندین کے اس کیمپ کے آس پاس سات سے زیادہ چیک پوسٹیں قاہم کی ہیں۔ اس سلسلے میں ضلعی رابطہ افسر دالبندین قمرمسعود نے بتایا کہ کیمپ کے اندر کسی صورت میں ایسی حالت پیدا نہیں کی جا‎‎ ئے گی جس سے یہ تاثر ملے کہ حکومت پاکستان کسی کو زبردستی نکالنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی مرضی سے جانے والوں کوحکومت پاکستان اوریواین ایچ سی آر ہرممکن مالی امداد فراہم کرے گی۔

قمرمسعود کے مطابق پاکستان مزید افغان پناہ گزینوں کا بوجھ نہیں برداشت کرسکتا اور اب افغانستان میں بھی ایسی صورتحال ہے کہ یہ لوگ وہاں جا کر آباد ہوسکتے ہیں۔

حکومت پاکستان اوریواین ایچ سی آر کا واضع موقف تھا کہ افغانستان میں حالات پہلے سے کافی بہتر ہیں اور ایک نہ ایک دن ان کو جانا پڑےگا اس وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ تمام افغان پناہ گزینوں کی مارچ 2007 سے واپسی شروع کی جائے گی جوسال 2009 میں مکمل ہوگي۔

خالد بھٹہ کے مطابق صدرپرویزمشرف اوروزیراعظم شوکت عزیزکی ذاتی دلچسپی ہے کہ بلوچستان کے ان دونوں کیمپوں کو اس سال جوں سے اگست کے درمیان مکمل طور پر خالی کرا کر زمین حکومت بلوچستان کے حوالے کردی جائے اور رجسٹرڈ افغانوں کوافغانستان واپس بھیج دیا جائے اور اگر کسی کووہاں کوئی مسئلہ ہوگا توانہیں کچھ عرصے کے لیے محمد خیل کیمپ میں رکھا جائے گا جبکہ غیررجسٹرڈ پناہ گزینوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔

اس کے علاوہ ضلع چاغی میں تین کیمپ اور پشین کے اولڈ سرنان اور نیوسرنان کیمپوں کو بھی رواں سال میں بند کر دیا جائےگا۔

مردم شماری میں بہت سے افغان مہاجرین اپنے نام درج کرانے سے محروم رہے
اور 15 فروری کومکمل ہونے والی رجسٹریشن کے دوران بھی انہیں کارڈ جاری نہیں کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ افغان پنا گزینوں کو زبردستی افغانستان بھیجے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یواین ایچ سی آر کی ترجمان دنیا اسلم خان سے رابطہ کیا گیا توانہوں نے واضع طور پر کہا کہ ان دونوں کیمپوں کے رہنے والوں کوکہا گیا ہے کہ وہ افغانستان واپس چلے جائیں۔ اگر کسی وجہ سے نہیں جا سکتے ہیں تو کسی متبادل کیمپ میں ان کی رہائش کاانتظام کیاجائے گا۔

دنیا خان کے مطابق اس سال جانے والے پناہ گزینوں کے لیے فی کس امداد 27 سے بڑھا کر60 ڈالرکردی گئی ہے۔

اسی بارے میں
افغان: رجسٹریشن کا آخری دن
15 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد