| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں ساڑھے تین سوافغان گرفتار
کوئٹہ میں پولیس نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ساڑھے تین سو سے زائد افغان باشندوں کوگرفتار کیا ہے جنہیں عدالت میں پیش کرنے کے بعد افغانستان واپس بھیج دیا جائے گا۔ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں گزشتہ چار روز سے جاری ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں ان اطلاعات کو غلط قرار دینے کے لیے شروع کی گئی ہیں کہ طالبان کی بڑی تعداد کوئٹہ میں روپوش ہے۔ صوبۂ بلوچستان میں پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) شعیب سڈل نے بتایا ہے کہ خفیہ اداروں نے متعلقہ حکام کو اطلاعات فراہم کی تھیں کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایسے غیر قانونی تارکین وطن موجود ہیں جن کا تعلق افغانستان سے ہے۔ خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق یہ تارکین وطن مختلف قبائل سے تعلق رکھتے ہیں جن میں ازبک، ہزارہ اور پشتون قبائل شامل ہیں۔ آئی جی پولیس نے اس سوال کے جواب میں کہ آخر یہ کارروائی پہلے کیوں نہیں کی گئی؟ کہا کہ اس سے قبل بھی گرفتاریاں کی جارہی تھیں لیکن اب ان میں شدت آگئی ہے۔ شعیب سڈل نے کہا کہ صوبے میں کسی کو بھی غیر قانونی قیام کی اجازت نہیں۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ہر لمبی داڑھی والا جس کے سر پر پگڑی ہو اور وہ لمبی قمیض پہنے ہوئے ہو، طالبان کا رکن نہیں ہوتا۔ پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے افغان باشندوں کے پاس شناختی کاغذات یا دستاویزات نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کے ان کے پاس افغان حکومت کی فراہم کردہ فہرستیں موجود ہیں اور اگر ایسے افراد گرفتار ہوئے جو افغان حکومت کو مطلوب ہیں تو انہیں افغان حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا۔ کوئٹہ میں موجود لگ بھگ تین لاکھ افغان باشندوں کے بارے میں آئی جی کا کہنا تھا کہ جن کے پاس اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا شناختی کارڈ یا کسی اور قسم کے قانونی دستاویزات اور سکونت کے اجازت نامے ہیں انہیں کوئی دشواری نہیں ہے۔ کوئٹہ میں دہشت گردی خصوصاً فرقہ وارانہ دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں، بم دھماکوں اور حملوں کے بارے میں پولیس کے صوبائی سربراہ نے بتایا کہ قندھار میں بھارتی قونصل خانہ کھلنے کے بعد ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ مقامی افراد کو یا کسی اور کو لالچ دے کر پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کرائی جارہی ہوں۔ یاد رہے کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کے بارے میں دو روز قبل وزیراعلیٰ بلوچستان جام یوسف نے کہا تھا کہ اس میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہو سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||