’یہ سراسر ظلم ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صبح سویرے ہی ایران افغانستان کے درمیان سرحد پر پناہ گزینوں کی لمبی قطار لگ جاتی ہے جنہیں سرحد کی دوسری جانب افغانستان بھیجا جاتا ہے۔ ایسا گزشتہ ایک ماہ سے ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کےادارے کے اعداد و شمار کے مطابق اکیس اپریل سے اب تک نوے ہزار لوگوں کو زبردستی ایران سے نکالا جا چکا ہے۔ کم و بیش ہر گھنٹے کے بعد لوگوں سے بھری ایک بس سرحد کی ایرانی جانب پہنچتی ہے اور اس میں سے ہر مسافر اپنے اس تھوڑے سے ساز وسامان کے ساتھ نکلتا ہے جو گرفتاری کے وقت اس کے پاس تھا۔ سرحد کی دوسری جانب انہیں ایک افغان سپاہی ملتا ہے جس کے بعد یہ لوگ ایک امدادی ادارے کی جانب سے رکھے گئے سامان کا پیکٹ اٹھانے کے لیے پھر ایک قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس پیکٹ میں انہیں پانی کی بوتل، بسکٹ اور پہننے کے کپڑے کچھ کپڑے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کو یہ بتانے کے لیے کہ وہ وطن واپس آ گئے ہیں، اپنے عزیزوں کو ٹیلی فون بھی کرنے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں ایک مرتبہ پھر بغیر کرایہ لیے بس کے ذریعے ایک سو بیس کلومیٹر دور ہرات کے شہر میں اس ملک میں زندگی از سر نو شروع کرنے کے لیےاتار دیا جاتا ہے جہاں سے وہ گئے تھے۔
اپنی کہانیاں سنانے کے لیے بیتاب کھڑے ہجوم میں مجھے ایک نوجوان دکھائی دیا جس کے رخسار سے آنسو ٹپک رہا تھا۔ ’میرے بیوی بچے اُدھر ہی رہ گئے ہیں حلانکہ میں نے حکام کو بتایا تھا کہ ہمیں اکٹھا واپس جانے دیں۔‘ اس کی ہتھیلی پر گاڑھی سیاہی میں ایک حوالہ نمبر لکھا ہوا تھا۔ ’حتیٰ کہ مجھے اپنے آجر سے پیسے بھی نہیں لینا دیا گیا۔اب جبکہ انہوں نے مجھے ملک سے نکال دیا ہے تو میرے بچوں کی حفاظت کون کرے گا۔ اگر کوئی انہیں باہر سڑک پر پھینک دیتا ہے تو انہیں کون پناہ دے گا۔ یہ سراسر ظلم ہے۔‘ مردوں کی قطار میں ایک بارہ سالہ لڑکا بھی تھا جس کا کہنا تھا کہ اسے اکیلے ہی واپس بھجوا دیا گیا ہے۔ قطار میں کھڑے سارے ہی لوگ دلگرفتہ تھے۔ ایک ضیعف، جو بار بار جذباتی انداز میں اپنی انگلی دوسری ہتھیلی پر مار رہا تھا، کہا کہ وہ وہ ایران میں اٹھائیس سال سے رہائش پزیر تھا مگر اب اسے بھی واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ نہ تو اس کے پاس کابل جانے کے لیے بس کا کرایہ ہے اور نہ ہی وہ یہ جانتا ہے کہ اسے وہاں کوئی کام بھی ملے گا۔ اس نے کہا ’ ہم بھی مسلمان ہیں اور ایرانی بھی۔ پھر انہوں نے ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا؟ ہمارا خیال رکھنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔‘ افغانستان پر روسی قبضے کے اور اس کے بعد کی خانہ جنگی کےدوران لاکھوں افغانیوں نے ایران میں پناہ لی۔ اگرچہ ایران گزشتہ برسوں میں بھی پناہ گزینوں کو واپس بھیجاتا رہا ہے لیکن اس نےاتنے قلیل وقت میں اتنی بڑی تعداد کو کبھی ملک بدر نہیں کیا۔ جوزف زپاٹر اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کا ادارہ بوڑھوں اور بچوں کے علاوہ وطن واپس آنے والے دیگر مہاجرین کے لیے کچھ زیادہ نہیں کر سکتا۔ اگرچہ ایران میں زیادہ تر افغانی جوان غیر قانونی طور پر رہ رہے تھے لیکن گزشتہ ہفتوں میں جن لوگوں کو ملک بدر کیا گیا ہے ان میں بائیس ہزار ایسے بھی ہیں جو بیوی بچوں والے ہیں۔ جوزف زپاٹر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’ گزشتہ سال ایسا نہیں ہو رہا تھا۔ اس کے علاوہ ہم جو کچھ سرحد پر دیکھ رہے ہیں اس سے انسانی حقوق کے حوالے سے بھی سوالات جنم لے رہے ہیں، مثلاً ان گھرانوں کا معاملہ جن کے آدھے افراد واپس بھجوائے گئے ہیں اور اس کے علاوہ سرحد پر بدسلوکی کے کچھ واقعات بھی ہماری نظر میں آئے ہیں۔
ان کا مزید کہا تھا کہ ’پناہ گزینوں کی واپسی کے عمل کو یقیناً زیادہ انسانیت پسند بنانے کی ضرورت ہے۔‘ اس ماہ کے شروع میں ایک افغانی وفد نے ایران کا دورہ بھی کیا۔ واپسی پر وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ ایران نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو زبردستی واپس بھیجنے کا عمل جاری نہیں رکھے گا لیکن جس وقت وفد اپنی یہ رپورٹ پیش کر رہا تھا اس وقت بھی سینکڑوں افغانیوں کو ایران سے ملک بدر کیا جا رہا تھا۔ ادھرایران کے پناہ گزینوں کے محکمے کے ڈائریکٹر احمد حسینی نے بھی اپنے ملک کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ ’ہم ایران میں غیر ملکی تاکین وطن کے بارے میں حتمی فیصلہ کر چکے ہیں اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم صرف افغانوں کی بات کر رہے ہیں بلکہ ان تمام لوگوں کی جو ہمارے ہاں غیر قانونی طور پر قیام پزیر ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہمیں جو پیسہ اپنے ملک کی تعمیر نو پر خرچ کرنا چاہیے وہ ہم ان مہاجرین پر خرچ کر رہے ہیں۔ اگر ہم آج اس رقم کا تخمینہ لگائیں تو یہ سالانہ سات ارب ڈالر بنتی ہے یعنی ہر افغان کے لیے چھ ڈالر یومیہ۔‘ ہرات میں ہزارہا بے روزگار مردوں کے پہنچنے سے نہ صرف شہر بلکہ ارد گرد کے علاقوں پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ لوگ ہرصبح مزدوری کے لیے قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن مزدوری کے مواقع بہت کم ہیں۔ ’میرے پاس میرا پاسپورٹ بھی تھا جو اِن لوگوں نے پھاڑ دیا۔ یہ کس قسم کا قانون ہے۔‘ ایران افغانستان میں اور خاص طور پر صوبہ ہرات میں تعمیر نو اور ترقی میں خاصا تعاون کر رہا ہے لیکن لوگوں کو شکایت ہے کہ اتنے قلیل عرصے میں ایران سے ہزاروں بے روزگار لوگوں کی واپسی سے اُس کی یہ کوششیں رائیگاں جا رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||