دلی: عراقی تارکین وطن کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق سے بھارت آنے والے تارکین وطن نے دلی میں ’یو این ایچ سی آر‘ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں وہ پوری طرح بے یار ومددگار ہیں اس لیے ان کے مسائل پر توجہ دی جائے تاکہ وہ پروقار زندگی گزار سکیں۔ عراقی میں جاری جنگ کے خوف سے تقریبا ڈیڑھ سو عراقی اس امید میں دلی آئے تھے کہ ان کی زندگی بہتر ہوجائے گی تاہم ان کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ یو این ایچ آر سی دفتر کے سامنے خواتین بچے اور بزرگ پچھلے تین روز سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ ایک پناہ گزین سلیمان خالد کہتے ہیں’ ہم یہاں سے دوسری جگہ جانا چاہتے ہیں جہاں زندگی گزار سکیں، ہم بہت تھک چکے ہیں۔ ہاتھ میں ایک پیسہ نہیں، بچے سکول نہیں جاتے ایک برس گزر گيا اور اب حالت اور خراب ہوتے جارہے ہیں۔ وطن میں حالات خراب ہیں اس لیے چاہتے ہوئے بھی واپس نہيں جا سکتے۔‘ احمد کی کہانی اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے ’ میری بیوی حاملہ ہے اور میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ اسے پیٹ بھر کھانا کھلا سکوں، اتنی گرمی میں بغیر پنکھے کے رہتے ہیں بس یوں سمجھو زندگی موت بن گئی ہے۔‘
یہ لوگ فلسطین کے باسی ہیں جو عراق میں بس گئے تھے۔ جنگ کے سبب عراق سے وہ جعلی پاسپورٹ کے ذریعے بھارت تو پہنچ گئے لیکن دلی میں ان کی روزگار تلاش کرنے کی ان کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئي ہیں۔ انتصار مصطفٰی کا پانچ سالہ بیٹا ان سب باتوں سے بےخبر فٹ پاتھ پر نیم کی ایک ہری ٹہنی لگا کر اس پر پانی ڈال رہا ہے۔ اس کی سات سالہ بہن زینب باغبانی کے کام میں اس کی مدد کر رہی ہیں لیکن ان کی ماں پریشان ہیں۔’حالات بہت خراب ہیں، بچوں کے سر پر چھت نہيں ہے، بس اللہ پر بھروسہ ہے جنگ سے قبل عراق میں ہماری زندگی بہتر تھی لیکن امریکہ کے آنے کے بعد زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ جنگ سے زندگی برباد ہوگئی ہے۔ ہوسکے تو میری یہ بات امریکہ کو پہنچادیں۔‘
ضیا نور کا کہنا ہے کہ جب تک سنیوکت راشٹر کا دفتر ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرتا وہ اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا’ ہم چاہتے ہیں کہ اس کا کوئی دیرپا حل نکلے ہمیں کم سے کم ہمارے انسانی حقوق تو ملیں۔ امن سے رہنے کی تمنا ہے لیکن ہم تو بغیر شہریت اور کسی پہچان کے ہیں۔ ہمیں کسی دوسرے ملک میں بسایا جائے جہاں ہم سکون سے رہ سکیں۔‘ یو این ایچ سی آر میں خارجی امور کی ایک افسر نینا بوس کہتی ہیں کہ عراقی تارکین وطن کے بارے میں جینیوا میں کانفرنس ہورہی ہے اور اس میں اگر اس کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوا تو اس پر عمل کیا جائےگا۔ ’ہمارا ملک اس معاملے پر تبھی کو ئی فیصلہ کر سکتا ہے جب عالمی پیمانے اس کے لیے کوئی واضح پالیسی وضع کی جائے۔ ہم تنہا ان لوگوں کے لیے کوئی فیصلہ نہيں کرسکتے۔ اب ان کا کیا ہوگا یہ جینیوا کانفرنس پر منحصر ہے۔‘ حالانکہ نینا بوس نے یہ بات تسلیم کی کہ یہ لوگ بہت برے حالات میں جی رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کے متعلق بھارت میں کوئی واضح پالیسی نہیں ہے اس لیے کچھ زیادہ مدد نہیں کی جا سکتی۔ بقول ان کے چونکہ یہ لوگ فلسطینی ہیں اس لیے انہیں کوئی ملک لینے کو بھی تیار نہیں ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||