ایوب ترین کوئٹہ |  |
 | | | ایک اندازے کے مطابق کوئٹہ میں ایسے ہزاروں بچے ہیں |
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ورکشاپوں، ہوٹلوں اور دکانوں پر دن بھرمزدوری کرنے والے بچوں میں بڑی اکثریت افغانستان سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی ہے۔ ان میں ایسےافغان مہاجر بچے بھی ہیں جوصبح سے شام اور بعض اوقات رات کو بھی کوڑا کرکٹ یا کچرا جمع کر کے اپنے گھر والوں کی کفالت کرتے ہیں اور ان بچوں کو ’گاربج پکنگ چلڈرن‘ کہا جاتا ہے ۔ شدیدگرمی ہو یا سردی یہ بچے دن بھر مختلف بازاروں، سڑکوں اور کچرا دانوں کے قریب پرانےسامان کاغذ اور پلاسٹک جمع کرکے فروخت کرتے ہیں اور روزانہ بمشکل سو روپے کماتے ہیں کیونکہ ایک بچہ ایک دن میں پندرہ سے بیس کلو تک کچرہ جمع کر سکتا ہے۔ ان میں دوطرح کے بچے ہوتے ہیں ایک وہ جو خود کام کرتے ہیں ان بچوں کے مختلف روٹس ہوتے ہیں اور کسی اور کے علاقے میں کچرہ جمع نہیں کرنے جاتے۔ دوسرے وہ جوکسی ٹھکیدار کے لیے کام کرتے ہیں۔ ٹھکیدار کے لیے کام کرنے والے بچےگھروں سے سوکھی روٹیاں، پرانا سامان، موٹرگیراجوں سے لوہا وغیرہ خرید کر لاتے ہیں پھر اس حساب سے انہیں ادائیگی ہوتی ہے۔
 | | | ایک بچہ روزانہ سو روپے کماتا ہے |
کچرہ خریدنے کے ایک گودام میں ٹھیکدار عبدالمالک نےجو استعمال شدہ پلاسٹک اور کاغذ الگ کرنے میں مصروف تھے، بتایا کہ وہ بچوں سےخریدےگئے پلاسٹک کے پرانے تھیلےاورکاغذ وغیرہ کراچی بھجواتے ہیں جہاں اسے دوبارہ کار آمد بنایا جاتا ہے۔عبدالمالک کی دکان پر شراب کی خالی بوتلیں بھی بڑی تعداد میں پڑی نظرآئیں۔ عبدالمالک نے شراب کی خالی بوتلوں کے بارے میں کہا کہ یہ بھی بچے ہی لاتے ہیں۔ انہوں نے ہچکچاتے ہوئے کہا کہ یہ بوتلیں خاکروب بڑے ہوٹلوں سے لاتے ہیں۔ مگر وہاں موجود ایک بچے نےبتایا کہ شراب کی بوتلیں وہ بچے لاتے ہیں جو رات کے وقت کچرہ چننے کا کام کرتے ہیں اور بہت سے بچےان بوتلوں میں بچی ہوئی شراب پی بھی لیتےہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے بچےسگریٹ اور چرس کے علاوہ صمد بانڈ کا نشہ بھی کرتے ہیں۔ کچرے سے پلاسٹک نکالنے میں مصروف ایک بارہ سالہ بچے حسن نے کہا کہ بعض والدین اورگھر کے دیگرافراد کے رویے کی وجہ بھی کچرا چننے والے زیادہ تر بچے بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
 | | | بہت سے بچے نشے کے عادی ہوجاتے ہیں |
ان بچوں کے گھروالے روزانہ سو روپے کا تقاضہ کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جہاں سے بھی ہوتم نے لانا ہے اور اکثر کو گھروں میں مارا پیٹا جاتا ہے جس کی وجہ سے جو بچے کم پیسے کماتے ہیں یا پھر خرچ کردیتے ہیں وہ راتوں کوگھر نہیں جاتے ہیں اس طرح رات سڑکوں پرگزارتے ہیں۔ راتوں کو سڑکوں پر اکثر بچے جنسی تشدد کانشانہ بھی بنتے ہیں۔اگرچہ صوبائی اورمرکزی حکومت اس طرح کے بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے سالانہ کئی کروڑ روپے بجٹ میں مختص کرتی ہیں مگران بچوں کی صحت اور تعلیم کے لیے سرکاری سطع پر کوئٹہ شہر میں کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں ہے جو ان بچوں کے بنیادی مسائل پر توجہ دے رہا ہو البتہ ایک غیرسرکاری تنظیم نے شہر کے مختلف مقامات پر ایسے تعلیمی اور تربیتی مراکز قائم کیے ہیں جہاں ان بچوں کو نہ صرف صحت اورصفائی کے حوالے سے تربیت دی جاتی ہے بلکہ انہیں ایسے طریقے سکھائے جاتے ہیں کہ غلط لوگوں سے کس طرح نمٹ سکتے ہیں۔
 | | | نچاری میں واقع ایک سینٹر کی انچارج سعیدہ خجک نے بتایا کہ یہ سینٹر ورکنگ بچوں کے لیے ہے |
نچاری میں واقع ایک سینٹر کی انچارج سعیدہ خجک نے بتایا کہ یہ سینٹر ورکنگ بچوں کے لیے ہے جس میں زیادہ ترکچرا جمع کرنے والے افغان بچے آتے ہیں جہاں ان بچوں کودودھ کے ساتھ روٹی دی جاتی ہے اس کے علاوہ انہیں کھیلنے کودنے کے مواقع دیے جاتے ہیں کیونکہ یہ بچے زندگی کی باقی خوشیوں سے محروم ہیں۔ اس سینٹرمیں ایک استاد حبیب خان اچکزئی نے بتایا کہ انہیں اس وقت سخت مشکلات پیش آتی ہیں جب بعض والدین زیادہ پیسےلانے کی صورت میں بچوں کوان سینٹروں میں آنے سے منع کردیتے ہیں۔ |