BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 February, 2007, 17:49 GMT 22:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہزاروں بچے ویکسین سے محروم رہے

کئی لوگوں نے دینی علماء کے کہنے پر بچوں کو قطرے نہیں پلائے
عالمی ادارہ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد میں تقریباً پچپن لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا جو ہدف مقرر کیا گیا تھا اس میں سے تئیس ہزار بچے ویکسین لینے سے محروم رہے ہیں۔

صوبہ سرحد کے وزیر صحت عنایت اللہ نے اس بات کی تصدیق کر تے ہوئے کہا کہ حکومت کو پولیو کے وائرس کے خاتمے کی مہم میں جن مشکلات کا سامنا ہے ان میں دوردراز علاقوں تک عدم رسائی ،امن و امان کی ابتر صورتحال کے علاوہ ان مقامی دینی علماء کی مخالفت بھی شامل ہے جو بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کو غیر شرعی اور مسلمانوں کے مخالفین کا سازش قرار دے رہے ہیں۔

عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے لکی مروت، سوات، بنوں، دیر بالا اور ڈیرہ اسماعیل خان کے علاوہ باجوڑ اور جنوبی اور شمالی وزیرستان میں زیادہ لوگوں نے بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے انکار کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بعض علاقوں تک رسائی مشکل ہے جبکہ کچھ ضلعوں میں مقامی مذہبی عالمان یہ غلط فہمی پھیلا رہے ہیں کہ پو لیو کے قطرے پلانے سے بچے بانچھ پن کے شکار ہو جائیں گے۔‘

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مولانا فضل اللہ ان دینی علماء میں شامل ہیں جو اپنے غیر قانونی ایف ایم سٹیشن پر پولیو ویکسین کے خلاف تقاریر کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ بچوں کو پو لیو ویکسین دینا مسلمانو ں کے مخالفین کی سازش ہے کیونکہ اس میں بانجھ پن کے اجزاء شامل ہیں۔‘

تاہم مولانا فضل اللہ اس سلسلے میں کوئی طبی ثبوت پیش نہ کر سکے۔

سوات میں علی گرام گاؤں کے محمد رحمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے دینی علماء کے کہنے پر اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سےانکار کیا تھا۔

حکومت کو بعض مقامی مذہبی علماء کی مخالفت کا سامنا کئی بر سوں سے ہے۔گذشتہ سال ستمبر میں حکومت نے پشاور میں نامور علماء کی یک کانفرنس منعقد کی تھی جنہوں نے فتویٰ جاری کیا تھا کہ پولیوکے قطرے پلانا غیرشرعی عمل نہیں ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے پشاور میں تعینات اہلکار ڈاکٹر سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ سرحد میں ہر دس میں سے دو بچے ایسے ہیں جو مقامی علماء کے کہنے پر پولیو ویکسین سے محروم ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں
پولیو چار ممالک میں باقی ہے
13 October, 2006 | نیٹ سائنس
انڈیا: پولیومیں اضافہ
22 September, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد