BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 October, 2006, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندوستان: پولیو کے 100 نئے کیس

حکام نے پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے پر تشویش ظاہر کی ہے
ہندوستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران پولیو کے ایک سو نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد بڑھ کر چار سو سولہ ہوگئی ہے۔

ہندوستان میں پولیو کو ہمیشہ کے لیئے ختم کرنے کے لیئے زبردست کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام نے پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔

پولیو کے یہ نئے کیس دلی اور ممبئی میں پائے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کے سبب یہ بیماری دوسرے شہروں میں بھی پھیل رہی ہے۔ شمالی اور مغربی ہندوستان میں پولیو کی بیماری کے کیسز کی تعداد زیادہ ہے۔

وزارتِ صحت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’بہار اور اترپردیش سے نقل مکانی کرنے والے افراد سے یہ بیماری دوسرے شہروں میں پھیلی ہے۔ دلی اور ممبئی میں پائے جانے والے نئے کیسز کا ذمہ دار ان لوگوں کو ٹھہرایا جا سکتا ہے جو گزشتہ کچھ ماہ کے دوران ان ریاستوں سے دوسرے شہروں میں گئے ہیں‘۔

ماہرین کا کہنا ہے پولیو کی اصل وجہ گندگی اور غذائیت کی کمی ہے۔

گزشتہ ماہ ایک رپورٹ کے مطابق پولیو کے سب سے زیادہ کیسز ریاست اتر پردیش میں پائے گئے تھے، جہاں پولیو کے کل تین سو اٹھاون کیسز سامنے آئے ہیں۔

 پولیو کے سارے کیسز ان علاقوں میں پائے گئے جہاں صفائی کی کمی رہی ہے۔ بیماری سے متاثر زیادہ تر بچوں کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے جو اپنے بچوں کو صحت مند غذا فراہم نہیں کر پاتے ہیں
ماہرین صحت

ابھی تک یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پولیو کے نئے کیس اترپردیش کے کچھ علاقوں تک ہی محدود ہیں لیکن وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ بیماری اترپردیش کے 41 اضلاع میں پھیل چکی ہے۔

اترپردیش کے بعد ریاست بہار دوسرے نمبر پر ہے جہاں کم از کم پولیو کے 28 کیس سامنے آئے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پولیو کے سارے کیسز ان علاقوں میں پائے گئے جہاں صفائی کی کمی ہے۔ بیماری سے متاثر زیادہ تر بچوں کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے جو اپنے بچوں کو صحت مند غذا فراہم نہیں کر پاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق عموماً ایک بچے کو پولیو کی تین خوراک دی جاتی ہیں لیکن ہندوستان میں بچوں کو کم از کم دس خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔

وزارت صحت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ دلی میں ایک بچے کو نو بار پولیو کی خوراک دینے کے باوجود بھی پولیو ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ’ہم ابھی بھی یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس بچے کو یہ بیماری کیسےہوئی۔ ہوسکتا ہے کہ پولیو کی خوراک پینے کے وقت وہ اسہال سے متاثر ہو کیونکہ اسہال کی صورت میں پولیو کی دوا بے اثر ہوتی ہے‘۔

ہندوستان میں بچوں کو پولیو کی دس خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے

گزشتہ ماہ ہندوستان کے وزیِرصحت نے پولیو سے متاثرہ ریاستوں کے اہلکاروں کے ساتھ ایک ہنگامی میٹنگ کی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کےمطابق گزشتہ برس ہندوستان میں پولیو کے 66 کیس درج ہوئے تھے لیکن اب یہ تعداد مزید بڑھ گئی ہے اور وزارتِ صحت اس بارے میں کافی فکر مند ہے۔

وزارتِ صحت آئندہ ماہ نومبر سے پولیو ختم کرنے کے لیئے ایک بڑی مہم شروع کر رہی ہے تاکہ اس بیماری پر جلد قابو پایا جاسکے گا۔

چند برس پہلے عالمی ادارہ صحت نے پوری دنیا سے پولیو کو ختم کرنے کے لیئے زبردست مہم شروع کی تھی لیکن ہندوستان کا شمار اب بھی ان چند ممالک میں ہورہا ہے جہاں پولیو پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔

ہندوستان میں پولیو پر قابو نہ پائے جانے پر جنیوا میں عالمی ادارہ صحت نے افسوس ظاہر کیا ہے اور اس نے ہندوستانی وزارتِ صحت کے اہلکاروں سے جلد ہی اس سلسلے میں مفصل صلاح مشورہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اسی بارے میں
انڈیا: پولیومیں اضافہ
22 September, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد