’افغان صورتِ حال بد سے بدتر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے کہا ہے کہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور کشمکش میں اضافے کی وجہ سے صورتِ حال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ایک بیان میں کمیٹی نے کہا ہے کہ عام لوگوں کا بُرا حال ہے اور گزشتہ ایک برس کے دوران میں سکیورٹی خراب سے خراب تر ہوگئی ہے۔ کمیٹی نے نہ صرف افغانستان میں سڑک کے کنارے ہونے والے بم دھماکوں اور خود کش حملوں پر تنقید کی ہے بلکہ نیٹو کی جانب سے فضائی بمباری پر بھی نکتہ چینی کی ہے۔ ریڈ کراس نے تمام فریقوں سے کہا ہے کہ وہ عام لوگوں کو بچانے کے لیے مزید کوششیں کریں۔ افغانستان میں ہزاروں کی تعداد میں بین الاقوامی فوجی ہیں اور وہاں کھربوں ڈالر کی امداد خرچ کی گئی ہے۔ لیکن ریڈ کراس کی کمیٹی کہ مطابق عام آدمی کی زندگی بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوئی ہے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر آپریشنن کا کہنا ہے کہ صورتِ حال یہ ہے کہ تشدد ملک کے چاروں طرف پھیل رہا ہے۔’لڑائی میں شدت آئی ہے اور پہلے یہ جنوب تک محدود تھی لیکن اب نئے علاقوں میں پھیل گئی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ عام شہری سڑک کے کنارے بم حملوں، خود کش حملوں، بھاری فضائی بمباری اور زمینی لڑائی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان آبادی کو زخموں، ہلاکتوں اور بے گھر ہونے کی شکل میں بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے اور یہ ایک تشویشناک اور پریشان کن صورتِ حال ہے۔ کمیٹی کے مطابق جنگ میں شامل کوئی فریق بھی بھی عام لوگوں کو بچانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہا۔ جنوب اور مشرقی افغانستان سے ہزاروں افراد گھروں سے بھاگ گئے ہیں اور ریڈ کراس جنگ کی وجہ سے زخمی ہونے والوں کے لیے طبی امداد بڑھا رہی ہے۔ کمیٹی کے مطابق زیادہ سے زیادہ لوگ افغان یا بین الاقوامی فوج کی حراست میں آ رہے ہیں جس کی وجہ سے ریڈ کراس کو جیلوں میں قیدیوں کو دیکھنے کے لیے بہت زیادہ جانا پڑتا ہے۔ | اسی بارے میں نیٹو کا حملہ،’عام شہری ہلاک‘01 May, 2007 | آس پاس نیٹو بمباری: درجنوں افغان ہلاک27 October, 2006 | آس پاس افغانستان: امریکی طیاروں کی بمباری 02 July, 2005 | صفحۂ اول افغان چوکی پر حملہ، دو فوجی ہلاک02 August, 2004 | صفحۂ اول افغانستان: 10 چینی باشندے ہلاک10 June, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||