نیٹو کا حملہ،’عام شہری ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں پولیس اور حکومتی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ہرات میں لڑائی کے دوران کم از کم تیس عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ نیٹو افواج نے کہا ہے کہ جمعہ اور اتوار کو شنداند کے ضلع میں طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں ایک سو پینتیس طالبان جنگجو مارے گئے۔ پیر کو نیٹو نے کہا تھا کہ اس نے طالبان کے خلاف فضائی اور زمینی حملے کیے اور یہ کہ ان حملوں میں عام شہری نہیں مارے گئے۔ افغان اہلکاروں اور مقامی افراد نے بی بی سی پشتو سروس کو بتایا کہ طالبان اور نیٹو کے درمیان جھڑپوں میں تیس عام لوگ مارے گئے۔ ہرات پولیس کے سربراہ محمد شفیق فاضلی نے اے ایف پی کو بتایا کہ مرنے والوں میں عورتوں اور بچوں سمیت کم از کم تیس افراد شامل ہیں۔ ادھر جلال آباد میں امریکی سالاری میں لڑنے والی فوج کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف تیسرے دن بھی احتجاج ہوا ہے۔سینکڑوں افراد جن میں اکثریت طالب علموں میں تھی، بڑی شاہراہ کو بند کر دیا اور حامد کرزئی کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ گزشتہ روز افغانستان میں نیٹو کی کمان میں اتحادی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ہرات کے صوبے میں گزشتہ تین دنوں میں فوجی کارروائی کے دوران ایک امریکی فوجی اور ایک سو پینتیس کے قریب مشتبہ طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔ نیٹو حکام نے دعوی کیا کہ اتوار کو چودہ گھنٹے تک جاری رہنےوالی ایک لڑائی میں ستاسی مشتبہ طالبان کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ اس س ایک دن قبل ہونے والی لڑائی میں انچاس طالبان اور ایک امریکی فوجی ہلاک ہو گیا تھا۔ امریکی حکام کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ لڑائی افغانستان کے مغربی صوبے ہرات کے علاقے زرکوہ وادی میں ہوئی۔ اس بیان میں کہا گیا کہ طالبان کے خلاف امریکی فوج کی کارروائی گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ دریں اثناء برطانوی فوج نے جنوبی افغانستان میں ہلمند صونے کے علاقے وادیِ سنگین میں ’آپریشن سلیکان‘ کے نام سے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کارروائی میں تین ہزار کے قریب اتحادی اورافغان فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ برطانوی فوج کا خیال ہے کہ اس علاقے میں طالبان بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ برطانوی فوج کے ساتھ سفر کرنے والے بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اس کارروائی میں درجنوں بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں اور انہیں فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ برطانوی فوج کو اس کارروائی کے دوران ابھی تک طالبان کی طرف سے کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ وادی میں مزید پیش رفت کرنے پر برطانوی فوج کی طالبان سے مد بھیڑ ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعوٰی23 December, 2006 | آس پاس موسٰی قلعہ پر بات چیت نہیں: طالبان06 February, 2007 | آس پاس بطور سزا بال کاٹ کر پھرایا گیا 22 February, 2007 | آس پاس طالبان کا سرکاری دفاتر پر قبضہ06 April, 2007 | آس پاس سینیئرالقاعدہ رکن امریکی تحویل میں27 April, 2007 | آس پاس ’طالبان‘ ہلاک، فرانسیسی خاتون رہا28 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||