BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 April, 2007, 14:53 GMT 19:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سینیئرالقاعدہ رکن امریکی تحویل میں
عبد الہادی
پینٹاگون کے مطابق عبدالہادی العراقی کو عراق میں داخل ہوتے وقت پکڑا گیا
امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے القاعدہ کے ایک سینیئر ترین رکن کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ آئندہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے اپنے ملک عراق میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق مذکورہ شخص اس وقت گوانتانامو بے میں ادارے کی تحویل میں ہے۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ القاعدہ کے یہ رہنما عراق میں تنظیم کی ذمہ داریاں سنبھال کر مغربی ممالک کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے کی غرض سے عراق آ رہے تھے۔

مذکورہ شخص پر الزام ہے کہ انہوں نے افغانستان میں اتحادی فوجوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی اور یہ کہ وہ پاکستان کے صدر جنررل پرویز مشرف پر کیے جانے والے قاتلانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی شریک تھے۔

امریکہ اور پاکستان دونوں نے اس گرفتاری پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

پینٹاگون کی طرف سے مہیا کی جانے والی معلومات کے مطابق عبدالہادی العراقی انیس سو نوے کی دہائی میں افغانستان میں گوریلا کارروائیوں میں ایک مرکزی کمانڈر کی حیثیث رکھتے تھے۔ اس کے بعد وہ دو ہزار دو اور دو ہزار چار کے درمیانی عرصے میں سرحد پار پاکستان سے اتحادی فوجوں پر حملوں میں بھی کمانڈر کا کردار ادا کرتے رہے۔

 دفتر خارجہ نے ان کی گرفتاری پر دس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا تھا۔ ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر ان کے بارے میں لکھا ’پانچ فٹ گیارہ انچ کے قد کے مالک عبدالہادی گندمی رنگت کے حامل ہیں، ان کی موچھیں ہیں اور اور لمبی داڑھی میں ہلکی ہلکی سفیدی آ رہی ہے۔ ان کی شہرت ہے کہ وہ ماہر اور ذہین ہیں اور القاعدہ میں انہیں نہایت احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے

امریکی خفیہ ادارے سے متعلق ایک ماہر نے بی بی سی کو بتایا کہ العراقی کو گزشتہ برس کے آخر میں ایک کارروائی کے دوران پکڑا گیا تھا جس میں امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے بھی شامل تھا۔

یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ انہیں اس عرصے کے دوران کہاں رکھا گیا تھا، تاہم پینٹاگون کے ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب العراقی گوانتانامو بے کے حراستی مرکز پہنچ چکے ہیں اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

گوانتانامو بے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کموڈور رِک ہاپٹ نے کہا ’ہم ان کے بارے میں معلومات کا انتظامی اور طبعی لحاظ سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کا طبعی معائنہ کیا جائے گا۔ ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو ہم یہاں دوسرے افراد کے ساتھ کرتے ہیں۔‘

رِک ہاپٹ کا کہنا تھا کہ ریڈ کراس کو ان سے ملنے کی اجازت ہو گی۔

پینٹاگون نے کہا کہ ’ان کے ساتھ امریکی قانون اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں مناسب سلوک کیا جائے گا۔‘

ادارے کا کہنا تھا کہ العراقی کو فوجی عدالت کے سامنے پیش کیے جانے کا فیصلہ اس بات کا جائزہ لینے کہ بعد کیا جائے گا کہ آیا وہ دشمن جنگجو ہیں یا نہیں۔

گوانتانامو بے میں انہیں ’ہائی ویلیو‘ قیدی یا ایک ’بڑے قیدی‘ کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ وہاں پر موجود تقریباً چار سو قیدیوں میں چودہ ایسے اور قیدی ہیں جنہیں ’بڑے قیدی‘ سمجھا جاتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار گورڈن کوریرا کا کہنا ہے کہ عبدالہادی العراقی القاعدہ کے سینیئر ترین کمانڈروں میں سے ایک ہیں۔

پینٹاگون کی معلومات کے مطابق انیس سو اکسٹھ میں موسل میں پیدا ہونے والے العراقی، صدام حسین کے دور میں عراقی فوج میں تھے اور افغانستان جا کر القاعدہ سے منسلک ہونے سے قبل میجر کے درجے تک ترقی پا چکے تھے۔

عبدالہادی العراقی کو امریکی دفتر خارجہ اسامہ بن لادن کے ’ سب سے بڑے عالمی نائبوں‘میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہیں اسامہ بن لادن نے عراق میں القاعدہ کی کارروائیوں کی نگرانی کرنے کے لیے ذاتی طور پر منتخب کیا تھا۔

دفتر خارجہ نے ان کی گرفتاری پر دس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا تھا۔ ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر ان کے بارے میں لکھا ’پانچ فٹ گیارہ انچ کے قد کے مالک عبدالہادی گندمی رنگت کے حامل ہیں، ان کی موچھیں ہیں اور اور لمبی داڑھی میں ہلکی ہلکی سفیدی آ رہی ہے۔ ان کی شہرت ہے کہ وہ ماہر اور ذہین ہیں اور القاعدہ میں انہیں نہایت احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔‘

دیکھئیےطالبان کے ساتھ
وزیرستان کے خصوصی دورے کی ویڈیو رپورٹ
طالبان (فائل فوٹو)طالبان کی تردید
’آواز ڈاکٹر حنیف کی نہیں ہے‘
ملزمانواقعی طالبان؟
کوئٹہ میں گرفتار مشتہ افراد کون ہیں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد