القاعدہ کی معاونت کا اعتراف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتاناموبے میں قید آسٹریلیا کے شہری ڈیوڈ ہکس نے ایک فوجی عدالت میں دہشت گرد کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ مذہب اسلام اختیار کرنے والے اکتیس سالہ ڈیوڈ پر شدت پسند تنظیم القاعدہ کے کیمپوں سے تربیت حاصل کرنے اور طالبان کے ساتھ مل کر لڑائی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اس اعتراف کے بعد یہ مکان ہے کہ ہکس، جو پچھلے پانچ سال سے گوانتاناموبے کے ایک کیمپ میں قید ہیں، اپنے وطن واپس جا کر اپنے خلاف سنائی جانے والی ممکنہ سزا کی معیاد پوری کریں گے۔ نئے امریکی قوانین کے تحت ہکس گوانتاناموبے کے پہلے قیدی ہیں جو دہشت گردی کے خلاف الزامات کا سامنا کریں گے۔ ان پر نئے ملٹری کمشنز ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا گیا جس کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مذمت کی ہے۔ فوجی عدالت میں کارروائی کے آغاز کے بعد ڈیوڈ ہکس کو باقاعدہ قصور وار ٹھہرایا گیا جبکہ کارروائی کی ابتداء میں ہکس نے اپنے خلاف الزامات سے انکار کیا تھا تاہم بعد میں ان کے وکیل نے جج کو بتایا کہ انہوں نے اپنے قصور وار ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔ ان کے خلاف قتل جیسے دیگر الزامات کو ختم کردیا گیا ہے۔
استغاثہ اور وکلاء صفائی کے پاس مقامی وقت کے مطابق منگل شام چار بجے تک کا وقت ہے کہ وہ ملزم کو سنائی جانے والی ممکنہ سزا پر کسی سمجھوتہ پر پہنچ سکیں۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے حکام پہلے ہی اس بات پر اتفاق کر چکے ہیں کہ ہکس اپنی سزا اپنے آبائی وطن میں پوری کریں گے۔ انہیں کم سے کم عمر قید کی سزا ہوگی تاہم آسٹریلیا کی حکومت کے شدید دباؤ کے بعد اس قسم کی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ انہیں دی جانے والی سزا کی معیاد کم ہو گی۔ آسٹریلیا کے وزیر حارجہ الیگزنڈر ڈونر نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قانونی عمل کے نتائج کو خوش آمدید کہتے ہیں جو ان کے مطابق بڑی دیر کے بعد شروع کیا گیا۔اے بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کا اندازہ ہے کہ ہکس جلد ہی اپنے آبائی وطن واپس آ جائیں گے۔
مقدمہ کی کارروائی کے آغاز سے قبل ہکس کو اپنے والد اور بہن سے ملاقات کے لیے دو گھنٹے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس سے قبل ان کی اپنے والد سے آخری ملاقات 2004 میں ایک سابقہ سماعت کے دوران ہوئی تھی۔ ان کے والد نے بعدازاں صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات کے دوران ہم نے ہاتھ ملائے، ایک دوسرے سے گلے ملے اور جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ہماری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ والد کا کہنا تھا کہ ہکس بہت ہی زیادہ مضطرب نظر آتے تھے۔ ڈیوڈ ہکس 2002 سے گوانتاناموبے میں قید ہیں۔ انہیں افغانستان سے گرفتار کرکے یہاں لایا گیا تھا۔ اس سے قبل اگست 2004 میں انہیں قصوار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔ تاہم گزشتہ سال امریکی سپریم کورٹ نے اس نظام کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ بعدازاں بش انتظامیہ نے رائج ٹربیونل سسٹم میں رد و بدل کیا تھا جس کی منظوری کانگریس نے دی تھی۔ اس نئے نظام کے تحت مقدمہ کا سامنا کرنے والے ہکس پہلے شخص ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس نئے قانونی نظام کے تحت گوانتاناموبے میں قید 385قیدیوں میں سے 80 کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنطیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان مقدمات کی مذمت کی ہے اور انہیں ’دکھاوے کے مقدمات‘ قرار دیا ہے۔ | اسی بارے میں گوانتانامو قیدیوں پر جلد مقدمات07 September, 2006 | آس پاس گوانتانامو کے چودہ قیدیوں پر مقدمہ09 March, 2007 | آس پاس مشتبہ قیدی دشمن جنگجو ہیں؟10 March, 2007 | آس پاس گوانتانامو بے سے لکھے گئے خطوط27 September, 2006 | آس پاس گوانتاناموبے میں بھوک ہڑتال جاری01 October, 2005 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کو حقوق مل گئے11 July, 2006 | آس پاس گوانتانامو: 75 قیدی بھوک ہڑتال پر29 May, 2006 | آس پاس قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: امریکہ05 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||