گوانتانامو بے سے لکھے گئے خطوط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو بے دنیا کے متنازعہ ترین عقوبت خانوں میں سے ایک ہے اور اسے صدر جارج بش کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم ترین علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں بی بی سی کو ایسے خطوط کی کافی تعداد ملی ہے جو کہ ان لوگوں نے لکھے ہیں جو کہ ابھی تک وہاں نظر بند ہیں۔ انہیں خطوط میں سے ایک خط ایسے شخص کا ہے جسے امریکیوں نے دشمن قیدی 345 کا نام دیا ہے اور وہ گوانتانامو بے کے کیمپ چار میں ہے۔ یہ قیدی الجزیرہ ٹی وی کے لیئے کام کرتا تھا جہاں اسے سمی الحج کے نام سے پکارہ جاتا تھا۔ اس قیدی کو پانچ سال قبل پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس قیدی کا بیٹا جو کہ صرف چھ سال کا ہے اپنے باپ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ سمی کی کہانی اسی کے الفاظ میں اس کے خطوط کے ذریعے باہر نکلی ہے یہ وہ خط ہیں جو کہ امریکی سینسر شپ سے گزر کر باہر نکلے ہیں۔ ان کے خطوں کی تحریر کچھ اس طرح ہے۔ ’یہ کون لوگ ہیں جنھیں ایسے پنجروں میں رکھا گیا ہے جو کہ جنگلی جانوروں کے لیئے بھی موزوں نہیں ہیں؟ یہ انسان یہاں کیسے رہتے ہیں؟‘ ’ حضرت نوح وہیل مچھلی کے پیٹ میں رہے تھے اور حضرت موسیٰ ایک تابوت میں۔ اس لیئے میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ گوانتانامو بے کے قید خانے صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو کہ بہت کہ بہت مضبوط ہیں اور جو نبیوں کا راستہ اختیار کرنے کا عزم رکھتے ہیں‘۔ ’ اگر مجھے اپنی ساری زندگی ان پنجروں میں گزارنی پڑے تو یہ لوگ جنہوں نے مجھے قید کیا ہے مجھ پر ہر طرح کا ظلم ڈھا سکتے ہیں اور میں ایسا ہی سمجھوں گا کہ میں ایک بادشاہ کی زندگی گزار رہا ہوں‘۔ اکثر یہ خط آپ کو جذباتی کر دیتے ہیں اور کبھی آپ کو انہیں پڑھ کر بہت دکھ پہنچتا ہے۔ کبھی یہ صرف اس کی زندگی کے گزرے دنوں کا احوال بتاتے ہیں۔اگرچہ ان خطوط کی توثیق کرنا مشکل ہے۔ سمی کا کہنا ہے کہ انہیں اور دوسرے قیدیوں کو مارا پیٹا جاتا ہے اور انہیں اسی صورت میں طبی امداد دی جاتی ہے اگر وہ تفتیش کرنے والوں کے ساتھ تعاون کریں۔ جبکہ امریکی حکام ان باتوں کی تردید کرتے ہیں۔ لیکن امریکی یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ سمی کو گرفتار کیوں کیا گیا ہے اور ان سے ایک سو تیس مرتبہ تفتیش کیوں کی گئی ہے۔
انہوں نے سمی پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی اور نہ ہی اسے عدالت میں بھیجا گیا ہے اور نہ ہی اسے سزا سنائی گئی ہے اسی لیے اس کو اس بات کی کوئی امید نہیں ہے کہ ایک دن وہ رہا ہوسکے گا۔ بس اگر اسے قید کرنے والوں کی مرضی ہو تو وہ رہا ہو سکے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سمی بھی کسی قسم کا دہشت گرد ہو۔ لیکن اس کے خاندان، رشتہ داروں، وکیلوں، پرانے قیدیوں اور امریکی ذرائع جن میں گوانتانامو بے کے کمانڈر رئیر امڈمرل ہیری ہیرس بھی شامل ہیں سے بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے پتا چلتا ہو کہ سمی وہی ہے جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے یعنی صرف ’امن کا داعی‘۔ رئیر امڈمرل ہیرس کا دعویٰ ہے کہ ان کی نگرانی میں موجود لوگوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جاتی ہے اور یہ لوگ امریکہ کے دشمن ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ ہر قسم کے ہتھیار کو کام میں لاتے ہوئے امریکہ کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن تین قیدیوں نے خودکشی کی تھی وہ جنگ و جدل کے مترادف ہے۔اور یہ خط اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ قیدیوں اور انہیں قید کرنے والوں کے درمیان کھینچا تانی جاری ہے۔ اپنے ایک خط میں سمی نے ان جیلوں کو اس طرح تصور کیا ہے جسے گوانتانامو میں موجود لوگ ’سٹچو آف لیبرٹی‘ کے قدموں میں ہوں ’ ان جیلوں میں ایسے چیزیں ہیں جو کہ نارنجی رنگ کے لباس میں ہیں۔ وہ بمشکل ہی انسان نظر آتے ہیں لیکن وہ سانس لیتے ہیں جیسے ہم سانس لیتے ہیں اور ان کے بھی ایسے ہی احساسات ہیں جیسے ہمارے احساسات ہیں اور جذبات ہیں جیسے۔۔۔‘ ’ کیا ایسا ایک دن آئے گا جب دنیا ایک بہت بڑے ملبے کے پاس کھڑے ہو کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرے گی یہ کہتے ہوے کہ ’یہاں پر ایک پتھر کا مجسمہ تھا جیسے سٹیچو آف لیبرٹی کہا جاتا تھا؟‘ | اسی بارے میں ’گوانتانامو قیدخانہ بند کر دیں گے‘21 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ’کوئی راستہ نکالیں گے‘30 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کو حقوق مل گئے11 July, 2006 | آس پاس ’گوانتانامو میں جو دیکھا‘ 23 July, 2006 | آس پاس گوانتانامو قیدیوں پر جلد مقدمات07 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||