گوانتانامو کے چودہ قیدیوں پر مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی حکام جمعہ سے خالد شیخ محمد سمیت چودہ افراد پر بندے کمرے میں مقدمہ شروع کرنے والے ہیں جنہیں کئی سال تک خفیہ جیلوں میں رکھنے کے بعد گوانتانامو کے قید خانے میں منتقل کیا گیا ہے۔ ان چودہ قیدیوں میں پاکستان سے گرفتار کیئے جانے والے خالد شیخ محمد کے علاوہ انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے حمبلی بھی شامل ہیں۔ خالد شیخ محمد پر الزام ہے کہ انہوں نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ولڈ ٹریڈ سنٹر پر کیئے جانے والے حملوں میں تین ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حمبلی پر سنہ دوہزار دو میں بالی میں بم دھماکے کرنے کا الزام ہے۔ ان بم حملوں میں دو سو سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔ بندے کمرے میں کیئے جانے والے ان مقدمات میں یہ تعین کیا جائے گا کہ کیا یہ قیدی دشمن کے فوجی ہیں اور آیا ان پر فوجی عدالت میں مقدمات چلائے جا سکتے ہیں۔
امریکی وزارتِ دفاع ان قیدیوں کو ’ہائی ویلیو‘ انتہائی قیمتی قیدی قرار دیتا ہے۔ گوانتانامو کے تمام قیدیوں کو ابتدائی عدالتی کارروائی سے گزرنا پڑتا ہے جس میں یہ تعین کیا جاتا ہے کہ کیا انہیں دشمن فوجی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں اس طرح کی عدالتی کارروائیاں میں باہر کے مبصرین کو شریک ہونے کی اجازت تھی لیکن ان چودہ افراد کے بارے میں پینٹاگون نے فیصلہ کیا کہ ان کا معاملہ بہت حساس ہے۔ بندے کمرے کی عدالتی کارروائی سے قبل ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ان میں کچھ قیدی اپنے پکڑے جانے کے بارے میں حقائق سے پردہ ہٹائیں اس بنا پر ان کے بیانات کلی طور جاری نہیں کیئے جائیں گے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے ساری عدالتی کارروائی مشکوک ہو جائے گی۔ | اسی بارے میں ’میرے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے‘15 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ’کوئی راستہ نکالیں گے‘30 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کو حقوق مل گئے11 July, 2006 | آس پاس گوانتانامو بے سے لکھے گئے خطوط27 September, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ’امریکہ کی مدد کریں‘22 January, 2007 | آس پاس گوانتانامو: ’سول عدالتیں مجاز نہیں‘20 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||